حیات طیبہ — Page 191
191 سوالوں کے جواب (جیسا کہ مناسب تھا) قرآن شریف سے دیئے۔اور تمام بڑے بڑے أصول وفروعات اسلام کو دلائل عقلیہ سے اور براہین فلسفہ کے ساتھ بہترین ومزین کیا۔پہلے عقلی دلائل سے الہیات کے مسئلہ کو ثابت کیا اور اس کے بعد کلام الہی کو بطور حوالہ پڑھنا ایک عجیب شان دکھاتا تھا۔مرز اصاحب نے نہ صرف مسائل قرآن کی فلاسفی بیان کی بلکہ الفاظ قرآن کی فلالوجی اور فلاسفی بھی ساتھ ساتھ بیان کر دی۔غرضیکہ مرزا صاحب کا لیکچر بحیثیت مجموعی ایک مکمل اور حاوی لیکچر تھا۔جس میں بے شمار معارف و حقائق و حکم و اسرار کے موتی چمک رہے تھے اور فلسفہ الہی کو ایسے ڈھنگ سے بیان کیا گیا تھا کہ تمام اہل مذاہب ششدر ہو گئے تھے۔کسی شخص کے لیکچر کے وقت اتنے آدمی جمع نہیں تھے جتنے کہ مرزا صاحب کے لیکچر کے وقت تمام ہال او پر نیچے سے بھر رہا تھا اور سامعین ہمہ تن گوش ہورہے تھے۔مرزا صاحب کے لیکچر کے وقت اور دیگر سپیکروں کے لیکچروں کے امتیاز کے لئے اس قدر کہنا کافی ہے کہ مرزا صاحب کے لیکچر کے وقت خلقت اس طرح آ آکرگری جیسے شہد پر کھیاں۔مگر دوسرے لیکچروں کے وقت بوجہ بے لطفی بہت سے لوگ بیٹھے بیٹھے اُٹھ جاتے تھے۔مولوی محمد حسین صاحب کا لیکچر بہت معمولی تھا۔وہی ملائی خیالات تھے جن کو ہم لوگ ہر روز سنتے ہیں اس میں کوئی عجیب و غریب بات نہ تھی اور مولوی صاحب موصوف کے دوسرے لیکچر کے وقت کئی شخص اُٹھ کر چلے گئے۔مولوی صاحب مدوح کو اپنا لیکچر پورا کرنے کے لئے چند منٹ زائد کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔“ اے بہر حال اس کتاب میں اسلام کی ایک جامع تصویر کھینچ دی گئی ہے۔جو شخص بھی حضرت اقدس کی قبل از وقت شائع کردہ پیشگوئی اور پھر اس مضمون کو دیکھے گا۔وہ اس امر کا اظہار کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ یہ مضمون واقعی تائید الہی سے لکھا گیا ہے۔تصانیف ۱۸۹۶ء ۱۸۹۶ء میں مندرجہ ذیل کتب تصنیف کی گئیں۔۱- انجام آتھم۔یہ کتاب ۱۸۹۶ء میں لکھنا شروع کی گئی اور شروع ۱۸۹۷ء میں شائع کر دی گئی۔اس میں آتھم کے واقعہ اور پھر اس پر مسلمان مولویوں، عیسائیوں اور آریوں کے اعتراضات کے جوابات دیئے گئے ہیں۔لے اخبار ” چودھویں صدی راولپنڈی بمطابق یکم فروری ۱۸۹۷ء نوٹ :۔اصل پر چہ خلافت لائبریری ربوہ میں موجود ہے۔