حیات طیبہ

by Other Authors

Page 161 of 492

حیات طیبہ — Page 161

161 علماء کا طرز عمل لیکن جب حضرت اقدس قادیان کو واپسی کے لئے تیار ہوئے تو مولوی صاحبان نے آپ کے اسٹیشن پر پہنچنے سے پہلے وہ مطبوعہ اشتہار جو پہلے سے چھپوالیا گیا تھا۔( کھسیانی بلی کھمبا نوچے کی مثال پر عمل کرتے ہوئے۔ناقل ) آپ کی سواری کے پیچھے پیچھے تقسیم کرنا اور شور مچانا شروع کر دیا اور دیواروں پر بھی لگا دیا۔جس میں لکھا تھا کہ مرزا بھاگ گیا اور زبانی بھی واویلا کرتے جاتے تھے۔دو چار روز کے بعد پھر امرتسر کے سب مولوی جمع ہوئے اور مشورہ کرنے لگے۔میں بھی اتفاقاً ادھر جا نکلا۔معلوم ہوا کہ ہر ایک اپنی اپنی رائے میں کسی مولوی کو بحث کے لئے انتخاب کر رہا ہے۔کوئی مولوی محمد حسین بٹالوی کو حضرت اقدس سے بحث کے لئے کھڑا کرنے کو کہتا تھا۔کوئی مولوی عبدالجبار غزنوی کو۔کسی کی نظر مولوی رسل بابا امرتسری پر تھی۔آخر مولوی غلام اللہ صاحب قصوری بولے کہ بحث سے انکار تو نہیں کرنا چاہئے ہاں یہ لکھ دو کہ کابل یا مکہ معظمہ یا مد ینہ منورہ میں بحث ہونی چاہئے نہ وہاں جائیں گے نہ مباحثہ ہو گا۔آتھم صاحب کا حال اب ہم پھر آتھم صاحب کے معاملہ کی طرف رجوع کر کے کہتے ہیں کہ حضرت شیخ نوراحد صاحب رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ: حضرت کے قادیان تشریف لے جانے کے بعد میں کچہری جار ہا تھا۔راستے میں آتھم صاحب کی کوٹھی آتی تھی۔میں نے دیکھا کہ آتھم صاحب دھوپ میں چھتری لگائے اپنی کوٹھی کے باغیچہ کو صاف کرار ہے ہیں۔میں نے کہا۔ڈپٹی صاحب! اس وقت کیا کررہے ہیں۔انہوں نے کہا گھاس اور جھاڑیاں صاف کر رہا ہوں۔ایسا نہ ہو کہ کوئی سانپ نکل کر مجھے کاٹ کھائے اور تم لوگ کہہ دو کہ مرزا صاحب کی پیشگوئی پوری ہوگئی۔میں نے کہا۔خوب اچھی طرح احتیاط کریں۔خدا تعالیٰ ضرور اپنی قدرت کا کوئی نظارہ دکھائے گا اس کے بعد آتھم صاحب کو مُنذ راور خطرناک خواب آنے لگے کہ رات کو چونکہ چونک کر اٹھتے اور کبھی چار پائی سے نیچے گر پڑتے تھے اور شور مچا ممکن ہے مراد غلام علی ہو سہو کا تب سے غلام اللہ لکھا گیا ہو یا مولوی صاحب نے خود ہی اپنا نام بعد میں غلام اللہ رکھ لیا ہو۔واللہ اعلم بالصواب له از رساله نور احمد صفحه ۳۳ تا صفحه ۳۵ ( بقدر الحاجة )