حیات طیبہ — Page 160
160 مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے مولویوں کو ڈرا رکھا تھا کہ تم میں سے کوئی مولوی بھی مرزا صاحب سے بحث نہیں کر سکتا وہ ذراسی دیر میں تم کو قابو کرلیں گے اور ایک دوسوال و جواب میں ہی تمہارا ناطقہ بند کر دیں گے۔بہتر ہے کہ کسی بہانہ سے بحث کو ٹال دو۔اس کے بعد تمام علمائے امرتسر مولوی عبدالجبار صاحب غزنوی وغیرہ غزنویاں و مولوی رسل بابا ومولوی غلام اللہ قصوری مشہور و غیر مشہور محمد جان کی مسجد کے نیچے کے ایک حجرہ میں بیٹھ گئے اور مؤذن سے کہہ دیا کہ حجرہ کا دروازہ مقفل کر کے چابی اپنے پاس رکھے اور مولوی رسل بابا صاحب نے کہا کہ اگر کوئی پوچھے تو کہہ دینا کہ کہیں دعوت پر گئے ہیں۔دیر میں آئیں گے۔خواجہ یوسف شاہ صاحب اس مسجد میں مولویوں کو تلاش کرتے ہوئے آگئے۔مؤذن سے پوچھا۔مولوی صاحبان کہاں ہیں؟ اس نے کہا۔دعوت پر گئے ہیں۔پھر خواجہ صاحب موصوف مولوی عبدالجبار صاحب کے ہاں گئے۔وہاں سے بھی یہی جواب ملا کہ کسی دعوت پر گئے ہیں۔خواجہ صاحب نے بلند آواز سے کہا کہ سب مولوی دعوت پر گئے ہیں۔یہاں کوئی بھی نہیں اور آج کا دن بحث کا تھا۔مرزا صاحب چلے جائیں گے مولوی لوگ بعد میں شور مچائیں گے۔آخر یہ بحث کب ہوگی۔وہاں سے پھر خواجہ صاحب مولویوں کی تلاش میں نکلے اور پتہ کیا کہ کس کے ہاں یہ دعوت ہے اور دوبارہ محمد جان کی مسجد کی طرف آئے۔تو اچانک کسی نے بتادیا کہ تمام مولوی اس مسجد کے نیچے حجرہ میں جمع ہیں اور باہر دروازے پر قفل لگا ہوا ہے تا کہ کسی کو پتہ نہ لگے۔مؤذن سے خواجہ صاحب نے پھر پوچھا کہ مولوی صاحبان کہاں ہے؟ مؤذن نے پھر یہی جواب دیا کہ دعوت پر گئے ہیں۔خواجہ صاحب نے کہا کہاں۔کس کے یہاں؟ اس کا جواب اس نے خوفزدہ ہو کر دیا کہ مجھے معلوم نہیں۔اس پر خواجہ صاحب نے کہا کہ مسجد کے نیچے کے حجرہ کی چابی کہاں ہے؟ اس نے کہا میرے پاس ہے۔فرمایا۔لاؤ۔اس نے گنجی دے دی۔خواجہ صاحب نے حجرہ کھولا۔جب اندر جا کر دیکھا تو سب مولوی حجرہ کے اندر بیٹھے ہوئے پائے۔مولویوں کا رنگ زرد ہو گیا اور کانپنے لگے۔خواجہ صاحب کہنے لگے۔کہ آج کا دن بحث کا ہے اور تم چھپ کر بیٹھے ہو۔کل کو مرزا صاحب چلے جاویں گے تو بحث کس سے ہوگی۔مولویوں نے کھسیانے ہو کر کہا کہ ہاں ہم مشورہ کر رہے ہیں تھوڑی دیر میں آپ کو اطلاع دی جاوے گی۔آپ تسلی رکھیں خواجہ صاحب تاکید کر کے چلے گئے۔۔۔۔لیکن انہیں یہ یقین ہو گیا کہ مولوی صاحبان بحث نہیں کر سکتے۔“