حیات طیبہ — Page 157
157 اس مباہلہ میں مولوی عبدالحق نے اپنے متعلق تو کوئی لفظ تک زبان سے نہ نکالا، لیکن حضرت اقدس کے لئے سخت سے سخت الفاظ استعمال کرنے اور گالی گلوچ سے اپنی زبان کو آلودہ کرنے میں کوئی کسر نہ اُٹھا رکھی۔اس کے جواب میں حضرت اقدس نے صرف ان الفاظ کا اعادہ فرمایا۔میں یہ دعا کروں گا کہ جس قدر میری تالیفات ہیں۔ان میں سے کوئی بھی خدا اور رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کے فرمودہ کے مخالف نہیں ہے اور نہ میں کافر ہوں اور اگر میری کتابیں خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودہ کے مخالف اور کفر سے بھری ہوئی ہوں تو خدا تعالیٰ وہ لعنت اور عذاب مجھ پر نازل کرے جو ابتداء دنیا سے آج تک کسی کافر بے ایمان پر نہ کی ہو اور آپ لوگ آمین کہیں۔کیونکہ اگر میں کافر ہوں اور نعوذ باللہ دین اسلام سے مرتد اور بے ایمان۔تو نہایت بُرے عذاب سے میرا مرنا ہی بہتر ہے اور میں ایسی زندگی سے بہ ہزار دل بیزار ہوں اور اگر ایسا نہیں تو خدا تعالیٰ اپنی طرف سے سچا فیصلہ کر دیگا وہ میرے دل کو بھی دیکھ رہا ہے اور مخالفوں کے دل کو بھی۔“ دیکھنے والوں کا بیان ہے کہ جب حضور یہ الفاظ دوہرا رہے تھے تو اس وقت ایک عجیب سماں بندھ گیا۔بے اختیار لوگوں کی چیخیں نکل گئیں۔حافظ محمد یعقوب صاحب کی بیعت ضلعدار حضرت اقدس نے ابھی اپنی دعاختم نہ کی تھی کہ حافظ محمد یعقوب صاحب جو حافظ محمد یوسف صاحب نہر کے بڑے بھائی تھے اور غزنویوں کے مُرید تھے ایک چیخ مار کر روتے ہوئے حضرت اقدس کے قدموں میں گر گئے اور کہا کہ آپ میری بیعت قبول کریں حضرت اقدس نے فرمایا۔مباہلہ سے فارغ ہو لیں تو بیعت لے لینگے یہ نظارہ دیکھ کر غزنوی مولویوں اور ان کے معتقدین کے تو ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔کیونکہ انہوں نے محسوس کیا کہ مباہلہ کے نتیجہ میں یہ حضرت اقدس کی پہلی فتح ہے۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی تو خدا جانے کہاں غائب ہو گئے۔اس وقت لوگوں کو یقین ہو گیا کہ حضرت مرزا صاحب نے جو فرمایا تھا کہ مولوی محمد حسین صاحب میرے مقابل پر نہیں آئیں گے وہ سچ ثابت ہو گیا۔بہر حال اس طرح مباہلہ ختم ہو گیا اور حضرت اقدس واپس مکان پر تشریف لے آئے۔