حیات طیبہ

by Other Authors

Page 156 of 492

حیات طیبہ — Page 156

156 دوران مباحثہ میں بیعتیں امرتسر میں حضرت شیخ نور احمد صاحب اور حضرت مستری قطب دین صاحب تو پہلے ہی احمدی تھے۔اب دورانِ مباحثہ میں حضرت میاں نبی بخش صاحب رفوگر اور حضرت قاضی امیر حسین صاحب بھیروی نے بھی بیعت کر لی حضرت قاضی صاحب ایک نہایت ہی پاک باطن اور بے نفس انسان تھے۔اور مدرسہ اسلامیہ میں مدرس تھے۔آپ چونکہ حدیث کے ایک زبردست عالم تھے۔اس لئے آپ کی بیعت پر مولویوں میں سخت شور برپا ہو گیا۔ہر محلہ میں مولویوں نے حضرت اقدس کے خلاف زہر اگلنا شروع کر دیا اور تلقین کرنا شروع کر دی کہ کوئی شخص مرزا کا وعظ سننے نہ جائے۔ورنہ اس کا شکار ہو جائے گا۔وغیرہ وغیرہ اور حضرت کی خدمت میں دوسرے آدمیوں کے ذریعہ پیغام بھیجنے شروع کر دیئے کہ ہمارے ساتھ مباحثہ کر لو۔حضور نے فرمایا۔پہلے عیسائیوں سے بحث ختم کر لینے دو۔پھر انشاء اللہ تمہارے ساتھ بھی بحث کر لیں گے۔وو مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کا مباہلہ سے فرار اور مولوی عبدالحق صاحب غزنوی کی آمادگی بحث کے خاتمہ پر مولویوں نے پھر شور مچایا کہ عیسائیوں کے ساتھ بحث تو ہو چکی۔اب ہمارے ساتھ بحث کر لو اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے بھی ایک اشتہار لاہور سے بھیجا کہ میں مرزا صاحب سے مباہلہ کے لئے امرتسر آتا ہوں صرف مباہلہ ہوگا اور کوئی تقریر نہ ہوگی۔حضرت صاحب نے اس کے جواب میں ایک اشتہار لکھا کہ مولوی محمد حسین مجھ سے ہرگز مباہلہ نہیں کریں گے اور میرے سامنے تک نہیں آئیں گے۔اگلا دن مولوی عبد الحق غزنوی سے مباہلہ کا تھا کہ مولوی محمد حسین بھی امرتسر پہنچ گئے۔عید گاہ میں بہت ، ہجوم ہو گیا اور مولوی محمد حسین بھی اس ہجوم سے اچھے خاصے فاصلہ پر کھڑے ہو کر کچھ تقریر کرنے لگے۔لوگوں کا خیال تھا کہ بعد تقریر مولوی صاحب مباہلہ کریں گے۔مرزا صاحب نے تو لکھا تھا کہ یہ میرے سامنے مباہلہ کے لئے نہیں آئیں گے۔لیکن یہ تو آگئے۔جب انہوں نے آدھا پونا گھنٹہ تقریر میں گزار دیا تو مولوی عبد الحق ، غزنویوں کے شاگرد، غزنوی مولویوں کے مشورہ سے مباہلہ کے لئے آگے بڑھے۔1 ے رسالہ نور احمد صفحه ۳۲-۳۳