حیات طیبہ — Page 115
115 ہیں۔عمر رسیدہ ہیں۔ہم نہ قسم کھاویں اور نہ کھانے پر مولوی صاحب کو آمادہ کر یں۔حضور فرماتے ہیں کہ اس جلسہ میں اتفاق سے خواجہ محمد یوسف آنریری مجسٹریٹ علی گڑھ بھی موجود تھے انہوں نے فریق ثانی کے بیہودہ عذرات سنکر مجھے کہا۔لے یا یہ سچ ہے کہ آپ برخلاف عقیدہ اہلسنت والجماعت لیلتہ القدر اور منجزات اور ملائک اور معراج وغیرہ سے منکر اور نبوت کے مدعی ہیں؟ میں نے کہا کہ یہ سراسر میرے پر افترا ہے۔میں ان سب باتوں کا قائل ہوں اور ان لوگوں نے میری کتابوں کا منشاء نہیں سمجھا اور غلط انہی سے مجھ کو منکر عقائد اہل سنت کا قرار دیا۔تب انہوں نے کہا کہ بہت اچھا! اگر فی الحقیقت یہی بات ہے تو مجھے ایک پرچہ پر یہ سب باتیں لکھ دیں۔میں ابھی صاحب سٹی سپر نٹنڈنٹ پولیس کو اور نیز پبلک کو سنا دوں گا۔اور ایک نقل اس کی علی گڑھ میں بھی لے جاؤں گا۔تب میں نے مفصل طور پر اس بارے میں ایک پر چہ لکھ دیا جو بطور نوٹ درج ذیل ہے۔اور خواجہ صاحب نے وہ تمام مضمون صاحب سٹی سپر نٹنڈنٹ پولیس کو بآواز بلند سنایا۔ہے اور تمام معزز حاضرین نے جو نزدیک تھے سُن لیا۔له از تذکرۃ المہدی صفحه ۳۴۸ تا ۳۵۰ ۲ تحریری بیان حضرت اقدس بسم اللہ الرحمن الرحیم محمد فصلی واضح ہو کہ اختلافی مسئلہ جس پر میں بحث کرنا چاہتا ہوں صرف یہی ہے کہ یہ دعوی که مسیح بن مریم علیہ السلام زندہ بجسده العصری آسمان پر اٹھائے گئے ہیں۔میرے نزدیک ثابت نہیں ہے اور نصوص قرآنیہ و حدیثیہ میں سے ایک بھی آیت صریحۃ الدلالت اور قطعیۃ الدلالت یا ایک بھی حدیث صحیحہ مرفوع متصل نہیں مل سکتی۔جس سے حیات مسیح علیہ السلام ثابت ہو سکے بلکہ جابجا قر آن کریم کی آیات صریحہ اوراحادیث صحیحہ مرفوعہ متصلہ سے وفات ہی ثابت ہوتی ہے اور میں اس وقت اقرار صحیح شرعی کرتا ہوں کہ اگر حضرت مولوی سید محمدنذیر حسین صاحب حیات مسیح علیہ السلام کی آیات صریح الدلالت اور قطعیۃ الدلالت اور احادیث صحیحہ مرفوعہ متصلہ سے ثابت کر دیں تو میں دوسرے دعوی مسیح موعود ہونے سے خود دست بردار ہو جاؤں گا اور مولوی صاحب کے سامنے تو بہ کروں گا بلکہ اس مضمون کی کتابیں جلا دوں گا اور دوسرے الزامات جو میرے پر لگائے جاتے ہیں کہ شیخص لیلتہ القدر کا منکر ہے اور معجزات کا انکاری اور معراج کا منکر اور نیز نبوت کا مدعی اور ختم نبوت کا انکاری ہے یہ سارے الزامات باطل اور دروغ محض ہیں۔ان تمام امور میں میرا مذہب وہی ہے جو دیگر اہلسنت و جماعت کا مذہب ہے۔اور میری کتاب توضیح مرام اور ازالہ اوہام سے جو اعتراض نکالے گئے ہیں۔یہ نکتہ چینوں کی سراسر غلطی ہے اب میں مفصلہ ذیل امور کا مسلمانوں کے سامنے صاف صاف اقراراس خانہ خدا مسجد میں کرتا ہوں کہ میں جناب خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کا قائل ہوں اور جو شخص ختم نبوت کا منکر ہو اس کو بے دین اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔ایسا ہی میں ملائکہ اور معجزات اور لیلۃ القدر وغیرہ کا قائل ہوں“۔