حیات طیبہ — Page 102
102 سا ئیں گلاب شاہ مجذوب کی شہادت اللہ تعالیٰ کے مامورین کی آمد جب قریب ہوتی ہے تو اس کی طرف سے اس کے فرشتے نیک روحوں کو جمع کرنے پر مامور کر دیئے جاتے ہیں۔انہیں نیک روحوں میں سے ایک صاحب میاں کریم بخش صاحب مرحوم بھی تھے۔یہ صاحب بہت صالح متقی متبع سنت اور راست گو انسان تھے۔انہوں نے جب حضرت اقدس کی بیعت کی تو اپنی بیعت کا محرک ایک مجذوب شخص بنام سائیں گلاب شاہ کی شہادت قرار دی۔اس مجذوب کی کئی پیشگوئیوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اس بزرگ نے ایک دفعہ جس بات کو عرصہ تیس سال کا گذرا ہوگا۔مجھ کو کہا کہ عیسی اب جوان ہو گیا ہے اور لدھیانہ میں آکر قرآن کی غلطیاں نکالے گا اور قرآن کی رُو سے فیصلہ کرے گا اور کہا کہ مولوی اس سے انکار کریں گے۔پھر کہا کہ مولوی۔۔۔۔انکار کر جائیں گے۔تب میں نے تعجب کی راہ سے پوچھا کہ کیا قرآن میں بھی غلطیاں ہیں۔قرآن تو اللہ کا کلام ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ تفسیروں پر تفسیریں ہو گئیں اور شاعری زبان پھیل گئی (یعنی مبالغہ پر مبالغہ کر کے حقیقتوں کو چھپایا گیا۔جیسے شاعر مبالغات پر زور دے کر اصل حقیقت کو چھپا دیتا ہے ) پھر کہا کہ جب وہ عیسی آئے گا تو فیصلہ قرآن سے کرے گا۔پھر اس مجذوب نے بات کو دوہرا کر یہ بھی کہا تھا کہ فیصلہ قرآن پر کریگا اور مولوی انکار کر جائیں گے اور پھر یہ بھی کہا کہ انکار کریں گے اور جب وہ عیسی لدھیانہ میں آئے گا تو بہت قحط پڑے گا۔پھر میں نے پوچھا کہ عیسی اب کہاں ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ بیچ قادیان کے یعنی قادیان میں۔تب میں نے کہا کہ قادیان تولدھیانہ سے تین کوس ہے وہاں عیسی کہا ہے لدھیانہ کے قریب ایک گاؤں ہے جس کا نام بھی قادیان ہے ) اس کا انہوں نے کچھ جواب نہ دیا اور مجھے کچھ معلوم نہیں تھا کہ ضلع گورداسپور میں بھی کوئی گاؤں ہے جس کا نام قادیان ہے۔پھر میں نے ان سے پوچھا کہ عیسی علیہ السلام نبی اللہ آسمان پر اٹھائے گئے اور کعبہ پر اُتریں گے۔تب انہوں نے جواب دیا کہ عیسی ابن مریم نبی اللہ تو مر گیا ہے۔اب وہ نہیں آئے گا۔ہم نے اچھی طرح تحقیق کیا ہے کہ مر گیا ہے۔ہم بادشاہ ہیں۔جھوٹ نہیں بولیں گے اور کہا کہ جو آسمانوں والے صاحب ہیں وہ کسی کے پاس چل کر نہیں آیا کرتے۔“ المشتہر : میاں کریم بخش بمقام لدھیانہ محلہ اقبال گنج ۱۴ / جون ۱۸۹۱ بو روز شنبه ۱ ے ازالہ اوہام حصہ دوم صفحہ ۲۸۸