حیات طیبہ

by Other Authors

Page 75 of 492

حیات طیبہ — Page 75

75 شہرت کافی ہو چکی تھی اور لوگ آپ کی ملاقات کے مشتاق تھے۔اس لئے حضور نے بذریعہ دستی اشتہارات یہ اعلان فرما دیا تھا کہ چالیس دن تک کوئی صاحب مجھ سے ملنے کے لئے نہ آویں۔بعد میں میں نہیں دن اور یہاں رہوں گا۔ان ایام میں ہر شخص کو ملاقات کی اجازت ہوگی۔حضرت مولوی عبداللہ سنوری رضی اللہ عنہ کی روایت ہے:۔”ہماری رہائش کا انتظام نیچے تھا اور ہمیں حضرت اقدس نے تاکیدی حکم دے رکھا تھا کہ مجھ سے از خود کوئی شخص کلام نہ کرے اگر میں کوئی بات پوچھوں تو صرف میری بات کا جواب دیدیا جائے زائد بات نہ کی جائے میرا کھانا اوپر پہنچا دیا جاوے اور برتن واپس لینے کے لئے انتظار نہ کی جائے۔نماز میں الگ پڑھا کرونگا البتہ جمعہ کے لئے فرمایا کہ کوئی ویران سی مسجد تلاش کرو۔جہاں ہم علیحدگی میں نماز ادا کر سکیں۔چنانچہ شہر کے باہر ایک باغ میں چھوٹی سی مسجد تھی۔ہم لوگ جمعہ کے لئے وہاں جاتے۔حضرت اقدس مختصر سا خطبہ پڑھتے اور نماز پڑھا کر واپس تشریف لے آتے۔حضرت مولوی صاحب کا بیان ہے کہ ایک دفعہ جب میں کھانا پہنچانے کے لئے اوپر گیا تو حضرت نے فرمایا ”میاں عبداللہ ! ان دنوں مجھ پر بڑے بڑے خدا کے فضل کے دروازے کھلے ہیں اور بعض اوقات دیر دیر تک خدا تعالیٰ مجھ سے باتیں کرتا رہتا ہے۔اگر ان کو لکھا جائے تو کئی ورق ہو جائیں۔چالیس دن گذرنے کے بعد حضور نے ۲۰ فروری کو ایک اشتہار شائع فرمایا جس میں اپنی نسبت، اپنی اولاد کی نسبت، اپنے اقارب کی نسبت، اپنے دوستوں کی نسبت ، سرسید اور مہاراجہ دلیپ سنگھ کی نسبت کئی ایک پیشگوئیاں درج فرما ئیں مصلح موعود کی عظیم الشان پیشگوئی بھی اسی اشتہار میں درج فرمائی۔جس کی تفصیل انشاء اللہ ابھی بیان کی جائے گی۔چلہ کشی کے بعد کئی لوگ باہر سے بھی ملاقات کے لئے حاضر ہوئے۔بعض لوگوں نے آپ سے مذہبی طور پر تبادلہ خیالات بھی کیا۔جن میں خاص طور پر پنڈت مرلیدھر کے ساتھ مباحثہ مشہور ہے۔جس کی روئیداد حضور کی کتاب "سرمه چشم آریہ میں درج ہے۔سے جب دوماہ کی مدت پوری ہوگئی تو حضرت اسی رستہ سے واپس قادیان تشریف لائے جس رستہ سے گئے تھے۔حضرت مولوی عبد اللہ صاحب فرماتے ہیں: ہوشیار پور سے پانچ چھ میل کے فاصلہ پر ایک بزرگ کی قبر ہے جہاں کچھ باغیچہ سالگا ہوا ہے وہاں پہنچ کر حضور تھوڑی دیر کے لئے پہلی سے اُتر آئے اور فرمایا یہ عمدہ سایہ دار جگہ ہے یہاں تھوڑی دیر ٹھہر جاتے ہیں۔اس کے بعد حضور قبر کی طرف تشریف لے گئے۔میں پیچھے پیچھے ہو گیا له سیرت المہدی حصہ اوّل روایت نمبر ۸۸ میاں عبد اللہ صاحب آریوں اور دہریوں کے مقابلہ میں یہ کتاب نہایت ہی مفید ہے اس کتاب میں حضرت نے قانونِ قدرت ہمعجزات اور روح کی حقیقت پر نہایت ہی لطیف اور مدلل بحث کی ہے۔(خاکسار مؤلف )