حیات طیبہ

by Other Authors

Page 33 of 492

حیات طیبہ — Page 33

33 والد صاحب کی خدمت میں دنیوی مشاغل سے کلیۂ فراغت کی درخواست والد صاحب کے قلبی تغیر اور دین کی طرف رجوع کو دیکھ کر آپ نے یہ محسوس کیا کہ اب اگر میں آپ کی خدمت میں دنیوی مشاغل سے کلیۂ فراغت کی درخواست کروں تو ممکن ہے آپ اسے منظور فرمالیں۔لہذا اس موقعہ کو غنیمت جان کر آپ نے اپنے والد مخدوم کی خدمت میں بزبانِ فارسی ایک عریضہ لکھا جو درج ذیل ہے: حضرت والد مخدوم من سلامت! مراسم غلامانہ وقواعد فدویا نہ بجا آوردہ معروض حضرت والا میکند۔چونکہ درمیں ایام برای العین سے بینم و چشم سر مساہدہ مے کنم که در همه ممالک و بلاد ہر سال چناں وبائے مے افتد کہ دوستاں راز دوستان و خویشان را ز خویشاں جدا می کند و هیچ سالے نے بینم کہ ایس نائزہ تعظیم و چنیں حادثہ کلیم در آن سال شور قیامت نیفگند نظر بر آن دل از دنیا سر دشده است و ر واز خوف جاں زرد و اکثر این دو مصرعہ شیخ مصلح الدین شیرازی بیاد مے آنید واشک حسرت ریخته میشود مکن تکیه بر عمر ناپائدار مباش ایمن از بازری روزگار و نیز این دو مصرعہ ثانی از دیوان فرخ قادیانی نمک پاش جراحت دل میشود۔بدنیائے دوں دل مبند کے جواں ہے کہ وقت اجل مے رسد نا گہاں لہذا میخواهم که بقیه عمر در گوشتہ تنہائی نشینم و دامن از صحبت مردم بچینم و بیاد اوسبحانه مشغول شوم مگر گذشته را غدرے و مافات را تدار کے شود۔عمر بگذشت و نماندست بجز ایا می چند به که در یاد کسے صبح کنم شامے چند کہ دنیا را اساسے محکم نیست و زندگی را اعتبارے نے۔وَمَنْ خَافَ عَلَى نَفْسِهِ آمِنَ مِنْ افَةِ غَيْرِه ترجمہ اس خط کا یہ ہے کہ: والسلام لے مخدومی حضرت والد صاحب سلامت! غلامانه مراسم وفد و یا نہ آداب کی بجا آواری کے بعد آپ کی خدمت میں یہ عرض کرتا ہوں کہ ان دنوں میں یہ امر مشاہدہ میں آ رہا ہے اور ہر روز یہ بات دیکھی جارہی ہے کہ تمام ممالک اور قطعات زمین میں ہر سال اس قسم کی وبا پھوٹ پڑتی ہے جو ل دعوۃ الامیر اردو صفحہ ۲۶۱ و سیرۃ المہدی حصہ اوّل طبع دوم صفحه ۲۵۵ ۲۵۶