حیات طیبہ

by Other Authors

Page 459 of 492

حیات طیبہ — Page 459

الگ ہی برتنوں میں کھایا کرتے تھے۔459 کس طرح کھانا تناول فرماتے تھے جب کھانا آگے رکھ دیا جاتا یا خوان بچھتا تو آپ اگر مجلس میں ہوتے تو یہ پوچھ لیا کرتے۔کیوں جی۔شروع کریں؟ مطلب یہ کہ کوئی مہمان رہ تو نہیں گیا۔یا سب کے آگے کھانا آ گیا۔پھر آپ جواب ملنے پر کھانا شروع کرتے اور تمام دوران میں نہایت آہستہ آہستہ چبا چبا کر کھاتے۔کھانے میں کوئی جلدی آپ سے صادر نہ ہوتی۔آپ کھانے کے دوران میں ہر قسم کی گفتگو فرمایا کرتے تھے۔سالن آپ بہت کم کھاتے تھے اور اگر کسی خاص دعوت کے موقعہ پر دو تین قسم کی چیزیں سامنے ہوں تو اکثر صرف ایک ہی پر ہاتھ ڈالا کرتے تھے اور سالن کی جور کا بی آپ کے آگے سے اُٹھتی تھی وہ اکثر ایسی معلوم ہوتی تھی کہ گویا اسے کسی نے ہاتھ بھی نہیں لگایا۔بہت بوٹیاں اور ترکاری آپ کو کھانے کی عادت نہ تھی۔بلکہ صرف لعاب سے اکثر چھوا کر ٹکڑا کھالیا کرتے تھے لقمہ چھوٹا ہوتا تھا اور روٹی کے ٹکڑے آپ بہت سے کر لیا کرتے تھے اور یہ آپ کی عادت تھی۔دستر خوان سے اُٹھنے کے بعد سب سے زیادہ ٹکڑے روٹی کے آپ کے آگے سے ملتے تھے اور لوگ بطور تبرک کے ان کو اُٹھا کر کھا لیا کرتے تھے۔آپ اس قدر کم خور تھے کہ باوجود یکہ سب مہمانوں کے برابر آپ کے آگے کھانا رکھا جاتا تھا۔مگر پھر بھی سب سے زیادہ آپ کے آگے سے بچتا تھا۔بعض دفعہ تو دیکھا گیا کہ آپ صرف روکھی روٹی کا نوالہ منہ میں ڈال لیا کرتے تھے اور پھر انگلی کا سرا شور بے میں تر کر کے زبان سے چھوا دیا کرتے تاکہ لقمہ نمکین ہو جائے۔پچھلے دنوں میں جب آپ گھر میں کھانا کھاتے تھے تو آپ اکثر صبح کے وقت مکی کی روٹی کھایا کرتے تھے اور اس کے ساتھ کوئی ساگ یا صرف لسی کا گلاس یا کچھ مکھن ہوا کرتا تھا یا کبھی اچار سے بھی کھالیا کرتے تھے۔آپ کا کھانا صرف اپنے کام کے لئے قوت حاصل کرنے کیلئے ہوا کرتا تھا نہ کہ لذت نفس کے لئے۔بار ہا آپ نے فرمایا کہ ہمیں تو کھانا کھا کر یہ بھی معلوم نہیں ہوا کہ کیا پکا تھا اور ہم نے کیا کھایا۔ہڈیاں چوسنے اور بڑا نوالہ اُٹھانے۔زور زور سے چپڑ چپڑ کرنے ، ڈکاریں مارنے یا رکابیاں چاٹنے یا کھانے کی مدح و ذم اور لذائذ کا تذکرہ کرنے کی آپ کو عادت نہ تھی۔بلکہ جو پکتا تھا وہ کھا لیا کرتے تھے کبھی کبھی آپ پانی کا گلاس یا چائے کی پیالی بائیں ہاتھ سے پکڑ کر پیا کرتے تھے اور فرماتے تھے ابتدائی عمر میں دائیں ہاتھ میں ایسی چوٹ لگی تھی کہ اب تک بو جھل چیز اس ہاتھ سے برداشت نہیں ہوتی اکڑوں بیٹھ کر آپ کوکھانے کی عادت نہ تھی بلکہ آلتی پالتی مار کر بیٹھتے یا بائیں ٹانگ بٹھا دیتے اور دایاں گھٹنا کھڑار کھتے۔