حیات طیبہ

by Other Authors

Page 454 of 492

حیات طیبہ — Page 454

454 بڑا تھا۔خوبصورت بڑا تھا اور علم قیافہ کی رو سے ہر سمت سے پورا تھا یعنی لمبا بھی تھا۔چوڑا بھی تھا۔اونچا بھی اور سطح او پر کی اکثر حصہ ہموار اور پیچھے سے گولائی بھی درست تھی آپ کی کنپٹی کشادہ تھی اور آپ کی کمال عقل پر دلالت کرتی کیا تھی۔لب مبارک آپ کے لب مبارک پتلے نہ تھے مگر تا ہم ایسے موٹے بھی نہ تھے کہ بڑے لگیں۔دہانہ آپ کا متوسط تھا اور جب بات نہ کرتے ہوں تو منہ کھلا نہ رہتا تھا۔بعض اوقات مجلس میں جب خاموش بیٹھے ہوں تو آپ عمامہ کے شملہ سے دہانِ مبارک ڈھک لیا کرتے تھے۔دندانِ مبارک آپ کے آخر عمر میں کچھ خراب ہو گئے تھے۔یعنی کیر البعض ڈاڑھوں کو لگ گیا تھا۔جس سے کبھی کبھی تکلیف ہو جاتی تھی۔چنانچہ ایک دفعہ ایک ڈاڑھ کا سرا ایسا نوکدار ہو گیا تھا کہ اس سے زبان میں زخم پڑ گیا تو ریتی کے ساتھ اس کو گھسوا کر برابر بھی کرایا تھا۔مگر کبھی کوئی دانت نکلوایا نہیں۔مسواک آپ اکثر فرمایا کرتے تھے۔پیر کی ایڑیاں آپ کی بعض دفعہ گرمیوں کے موسم میں پھٹ جایا کرتی تھیں۔اگر چہ گرم کپڑے سردی گرمی میں برابر پہنتے تھے۔تاہم گرمیوں میں پسینہ بھی خوب آتا تھا۔مگر آپ کے پسینہ میں کبھی بونہیں آتی تھی خواہ کتنے ہی دن بعد گرتا بدلیں اور کیسا ہی موسم ہو۔گردن مبارک آپ کی گردن متوسط لمبائی اور موٹائی میں تھی۔آپ اپنے مطاع نبی کریم صلعم کی طرح اُن کے اتباع میں ایک حد تک جسمانی زینت کا خیال ضرور رکھتے تھے۔غسل جمعہ، حجامت ، جنا ،مسواک ، روغن اور خوشبو، کنگھی اور آئینہ کا استعمال برابر مسنون طریق پر آپ فرمایا کرتے تھے۔مگر ان باتوں میں انہماک آپ کی شان سے بہت دُور تھا۔لباس سب سے اوّل یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ آپ کو کسی قسم کے خاص لباس کا شوق نہ تھا آخری ایام کے کچھ سالوں میں آپ کے پاس کپڑے سادے اور سلے سلائے بطور تحفہ کے بہت آتے تھے۔خاص کر کوٹ، صدری اور پائجامہ قمیض وغیرہ جوا کثر شیخ رحمت اللہ صاحب لاہوری ہر عید، بقرعید کے موقعہ پر اپنے ہمراہ نذر رلاتے