حیات طیبہ — Page 453
453 طرح ہاتھوں کے بھی۔چہرہ مبارک آپ کا چہرہ کتابی یعنی معتدل لمبا تھا اور حالانکہ عمر شریف ۷۰ اور ۸۰ کے درمیان تھی پھر بھی جھریوں کا نام ونشان نہ تھا اور نہ متفکر اور غصہ ورطبیعت والوں کی طرح پیشانی پر شکن کے نشانات نمایاں تھے۔رنج ،فکر ،تر ڈ دیا غم کے آثار چہرہ پر دیکھنے کی بجائے زیارت کنندہ اکثر تبسم اور خوشی کے آثار ہی دیکھتا تھا۔آپ کی آنکھوں کی سیاہی ، سیاہی مائل شربتی رنگ کی تھی اور آنکھیں بڑی بڑی تھیں مگر پپوٹے اس وضع کے تھے کہ سوائے اس وقت کے جب آپ ان کو خاص طور پر کھولیں ہمیشہ قدرتی غض بصر کے رنگ میں رہتی تھیں بلکہ جب مخاطب ہو کر بھی کلام فرماتے تھے تو آنکھیں نیچی ہی رہتی تھیں۔اسی طرح جب مردانہ مجالس میں بھی تشریف لے جاتے تو بھی اکثر ہر وقت نظر نیچے ہی رہتی تھی۔گھر میں بھی بیٹھتے تو اکثر آپ کو یہ نہ معلوم ہوتا کہ اس مکان میں اور کون کون بیٹھا ہے۔اس جگہ یہ بات بھی بیان کے قابل ہے کہ آپ نے بھی عینک نہیں لگائی اور آپ کی آنکھیں کام کرنے سے کبھی نہ مجھکتی تھیں۔خدا تعالیٰ کا آپ کے ساتھ حفاظت معین کا ایک وعدہ تھا۔جس کے ماتحت آپ کی چشمانِ مبارک آخر وقت تک بیماری اور تکان سے محفوظ رہیں۔البتہ پہلی رات کا ہلال آپ فرمایا کرتے تھے کہ ہمیں نظر نہیں آتا۔ناک حضرت اقدس کی نہایت خوبصورت اور بلند بال تھی۔پتلی ، سیدھی ، اونچی اور موزوں۔نہ پھیلی ہوئی تھی نہ موٹی۔کان آنحضور کے متوسط یا متوسط سے ذرا بڑے۔نہ باہر کو بہت بڑھے ہوئے۔نہ بالکل سر کے ساتھ لگے ہوئے قلمی آم کی قاش کی طرح اوپر سے بڑے نیچے سے چھوٹے۔قوت شنوائی آپ کی آخر وقت تک عمدہ اور خدا کے فضل سے برقرار رہی۔رُخسار مبارک آپ کے نہ پچکے ہوئے اندر کو تھے نہ اتنے موٹے کہ بہت باہر کو نکل آویں۔نہ رخساروں کی ہڈیاں اُبھری ہوئی تھیں۔بھنویں آپ کی الگ الگ تھیں۔پیوستہ ابرونہ تھے۔پیشانی اور سر مبارک پیشانی مبارک آپ کی سیدھی اور بلند اور چوڑی تھی اور نہایت درجہ کی فراست اور ذہانت آپ کے جبین سے ٹپکتی تھی۔علم قیافہ کے مطابق ایسی پیشانی بہترین نمونہ اعلیٰ صفات اور اخلاق کا ہے یعنی جو سیدھی ہو نہ آگے کو نکلی ہوئی نہ پیچھے کو دھتی ہوئی اور بلند ہو یعنی اونچی اور کشادہ ہو اور چوڑی ہو۔بعض پیشانیاں گواونچی ہوں مگر چوڑان ماتھے کی تنگ ہوتی ہے۔آپ میں یہ تینوں خوبیاں جمع تھیں اور پھر یہ خوبی کہ چین جبیں بہت کم پڑتی تھی۔سر آپ کا