حیات طیبہ

by Other Authors

Page 440 of 492

حیات طیبہ — Page 440

440 طبقے سے متعلق تھا۔ان کو تو حضرت اقدس کی وفات پر بلحاظ آپ کے اسلامی جرنیل ہونے کے رنج وقلق تھا۔اور ان میں سے ایک خاصی تعداد حضور کا آخری دیدار اور اظہار غم و ہمدردی کے لئے احمد یہ بلڈنگس میں آگئی۔اللہ تعالیٰ ان کو اس کی جزا دے۔دوسرا طبقہ جو پہلے طبقہ کی ضد تھا۔اس نے ایسی کرتوت کا مظاہرہ کیا جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔یہ طبقہ اپنے رہنماؤں کی اقتداء میں اسلامیہ کالج کے وسیع میدان میں جمع تھا اور اس کے افراد گندے نعرے لگاتے اور غلیظ گالیاں دیتے ہوئے حملہ آوروں کی صورت میں ڈاکٹر سید محمدحسین شاہ صاحب کے مکان کی طرف جس میں حضرت اقدس کی نعش مبارک رکھی ہوئی تھی۔بڑھتے اور پسپا ہوتے تھے اور ان کے انداز سے ظاہر ہوتا تھا کہ وہ ایسے ارادے رکھتے ہیں جو کسی قوم کے ادنیٰ سے ادنی ذلیل سے ذلیل افراد سے بھی سرزد ہونا مشکل ہیں۔تجهيز وتكفين احمدی احباب علاوہ اس طوفان بے تمیزی کو روکنے کے حضرت اقدس کی نعش مبارک کو قادیان لے جانے کی تیاری بھی کر رہے تھے۔دن میں دو اور تین بجے کے درمیان بڑی کوشش کے بعد غسل دینے اور کفنانے سے فراغت ہوئی۔اس کے بعد جنازہ ڈاکٹر محمد حسین شاہ صاحب مرحوم کے مکان کی اوپر کی منزل سے نچلے صحن میں لایا گیا۔اور حضرت مولانا حکیم نورالدین صاحب نے نماز جنازہ پڑھائی۔اور یہ حضور کی پہلی نماز جنازہ تھی جو لاہور میں ہی ادا کی مخالفین نے علاوہ طرح طرح کی لغویات اور خلاف انسانیت حرکات کے یہ بھی کیا کہ ریلوے افسروں کو یہ جھوٹی خبر پہنچائی کہ مرزا صاحب کی وفات ہیضہ سے ہوئی ہے۔یہ حرکت اس غرض کو مد نظر رکھ کر کی تھی کہ ہیضے سے فوت ہو جانے والے کی نعش کا ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانا متعدی بیماری ہونے کی وجہ سے ریلوے قانون کے خلاف تھا۔مخالفین چاہتے تھے کہ نفش مبارک قادیان نہ لے جائی جاسکے اور یہاں تدفین میں جس قسم کی وقتیں وہ ڈالنا چاہتے تھے جی کھول کر ڈال سکیں۔مخالفوں کی اس شرارت کا احمدیوں کو بھی علم ہو چکا تھا۔اس لئے مکرم شیخ رحمت اللہ صاحب ڈاکٹر میجر سدر لینڈ پرنسپل میڈیکل کالج لاہور کے پاس گئے۔جو آخر وقت میں حضرت اقدس کے علاج کے لئے بلائے گئے تھے اور ان سے اس کارروائی کا جو مخالفین نے کی۔اظہار کیا۔اور چاہا کہ جس مرض سے حضرت اقدس کی وفات ہوئی ہے۔ڈاکٹر صاحب اس کے متعلق سرٹیفکیٹ دیں۔چنانچہ انہوں نے یہ سرٹیفکیٹ دیا کہ آپ کی وفات ہیضے سے ہرگز نہیں بلکہ اعصابی تکان کے دستوں سے ہوئی ہے۔اور حقیقت بھی یہی تھی کہ حضرت اقدس کو یہ پرانہ عارضہ تھا اور گاہے گا ہے اسہال کی شکایت ہوتی رہتی تھی۔چنانچہ جب جنازہ اسٹیشن پر پہنچا تو ریلوے حکام نے اس جھوٹی رپورٹ کی بنا پر یہ اعتراض کیا کہ ہمیں رپورٹ پہنچی ہے کہ مرزا صاحب کی وفات ہیضے سے ہوئی ہے۔