حیات طیبہ

by Other Authors

Page 441 of 492

حیات طیبہ — Page 441

441 اس لئے گاڑی نہیں دی جاسکتی۔مگر جب میجر ڈاکٹر سدر لینڈ کا سرٹیفکیٹ پیش کر دیا گیا تو اجازت دیدی اور جنازہ سیکنڈ کلاس کی گاڑی میں جور یز رو کرائی گئی تھی۔رکھوادیا گیا۔مخالفوں کی ایک اور مذموم حرکت مخالفوں نے جنازے کی روانگی کے بعد ایک مذموم حرکت یہ کی کہ اپنوں میں سے کسی کا منہ کالا کر کے اور اس کو چار پائی پر لٹا کر مصنوعی جنازہ تیار کیا اور اسے اُٹھا کر ” ہائے ہائے مرزا‘۔ہائے ہائے مرزا “ کا شور کرتے ہوئے موچی دروازہ سے اسٹیشن کی طرف روانہ ہوئے ان کی یہ حرکات جس قسم کی تھیں۔ہر وہ شخص جس کو ذرا بھی شرافت کا احساس ہو۔اچھی طرح سمجھ سکتا ہے۔احمدیوں نے اُن کی ان تمام لغویات پر صبر سے کام لیا اور ان کی طرف سے کوئی بات ایسی نہیں ہوئی جو قابل گرفت ہوتی۔بحالیکہ اس رنج و غم کی حالت میں مخالفین کا یہ رویہ جس قدر دل خراش اور اشتعال انگیز تھا محتاج بیان نہیں۔یہ تھے ان لوگوں کے افعال جو اسلام کے نام پر حضرت اقدس کی مخالفت کرنے والے تھے۔ہم اس موقعہ پر نہ تو مخالفین کی ان حرکتوں کے متعلق کچھ کہنا چاہتے ہیں۔اور نہ اس کی کوئی ضرورت ہے البتہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس کتاب کو پڑھنے والے خود فیصلہ کر لیں گے کہ اس وقت حضرت اقدس کے مسلمان کہلانے والے مخالفوں نے جو کچھ کیا۔وہ تعلیم اسلام ،شرافت بلکہ انسانیت سے بھی کیا تعلق رکھتا ہے؟ جنازہ قادیان پہنچایا گیا او پر ذکر ہو چکا ہے کہ حضرت اقدس کی نعش مبارک سیکنڈ کلاس کے ایک ریز رو ڈبہ میں رکھوا دی گئی تھی۔گاڑی لاہور سے پونے چھ بجے روانہ ہوئی اور ۱۰ بجے رات کو بٹالہ پہنچی۔جنازہ گاڑی میں رہا۔جس کی حفاظت کے لئے خدام پاس موجودر ہے۔دو بجے نعش مبارک صندوق سے باہر نکالی گئی اور ایک چار پائی پر رکھ کر خدام نے جنازہ کندھوں پر اُٹھا لیا۔صبح آٹھ بجے کے قریب گیارہ میل کا سفر طے کر کے قادیان پہنچادیا۔راستہ میں عجیب کیفیت تھی۔سلسلہ کے مخلصین اپنے محبوب آقا کے جنازہ کو لیکر اشکبار آنکھوں کے ساتھ درود شریف پڑھتے ہوئے چل رہے تھے اور ہر ایک کی یہی خواہش تھی کہ وہ زیادہ سے زیادہ دیر تک جنازہ کو اپنے کندھوں پر اٹھا کر لے جائے۔کیونکہ وہ جانتے تھے کہ تیرہ سو سال کے بعد ایک عظیم الشان مصلح اور نائب رسول (صلی اللہ علیہ وسلم۔فداہ روحی ) کو اللہ تعالیٰ نے اس جہان کی اصلاح کے لئے بھیجا۔اور پھر سارے جہان میں سے اس کا جنازہ اُٹھانے کیلئے محض اپنے فضل و کرم اور رحمت سے انہیں چن لیا پس یہ ان کے لئے کوئی معمولی فخر کی بات نہیں تھی۔بہر حال مسیح محمدی کے عاشقوں نے چند گھنٹوں کے اندراند نفش مبارک قادیان میں پہنچا دی اور یہ جسد اطہر ومبارک اس باغ میں جو بہشتی