حیات طیبہ

by Other Authors

Page 404 of 492

حیات طیبہ — Page 404

404 اس عنوان کے نیچے پہلے مولوی ثناء اللہ صاحب کی تحریر کونقل کیا گیا ہے اور پھر اپنا جواب دیا گیا ہے جواب چونکہ بہت مفصل ہے۔اس لئے ہم صرف خلاصہ درج کرتے ہیں۔وہو ہذا۔۔اس مضمون کے جواب میں مولوی ثناء اللہ صاحب کو بشارت دیتا ہوں کہ حضرت مرزا صاحب نے ان کے اس چیلنج کو منظور کر لیا ہے۔وہ بے شک قسم کھا کر بیان کریں کہ یہ شخص اپنے دعویٰ میں جھوٹا ہے اور بیشک یہ کہیں کہ اگر میں اس بات میں جھوٹا ہوں تو لعنۃ اللہ علی الکاذبین۔اور اس کے علاوہ ان کو اختیار ہے کہ اپنے جھوٹے ہونے کی صورت میں ہلاکت وغیرہ کے جو عذاب اپنے لئے چاہیں مانگیں۔۔۔۔۔۔حضرت اقدس نے پھر بھی اس پر رحم کر کے فرمایا ہے کہ یہ مباہلہ چند روز کے بعد ہو۔جبکہ ہماری کتاب حقیقۃ الوحی چھپ کر شائع ہو جائے۔۔۔۔۔۔اس کتاب کیساتھ ایک اشتہار بھی ہماری طرف سے ہوگا۔جس میں ہم یہ ظاہر کر دیں گے کہ ہم نے مولوی ثناء اللہ کے چیلنج مباہلہ کو منظور کر لیا ہے اور ہم اول قسم کھاتے ہیں کہ وہ تمام الہامات جو ہم نے اس کتاب میں درج کئے ہیں۔وہ خدا کی طرف سے ہیں اور اگر ہمارا افترا ہے تو لعنۃ اللہ علی الکاذبین۔ایسا ہی مولوی ثناء اللہ صاحب بھی اس اشتہار اور کتاب پڑھنے کے بعد بذریعہ ایک چھپے ہوئے اشتہار کے قسم کے ساتھ یہ لکھ دیں کہ میں نے اس کتاب کو اوّل سے آخر تک بغور پڑھ لیا ہے اور یہ کہ اس میں جو الہامات ہیں وہ خدا کی طرف سے نہیں ہیں اور مرزا غلام احمد کا اپنا افترا ہے اور اگر میں ایسا کہنے میں جھوٹا ہوں تو لعنتہ اللہ علی الکاذبین۔اور اس کے ساتھ اپنے واسطے اور جو کچھ عذاب وہ خدا سے مانگنا چاہیں مانگ لیں۔ان اشتہارات کے شائع ہو جانے کے بعد اللہ تعالیٰ خود ہی فیصلہ کر دیگا اور صادق اور کاذب میں فرق کر کے دکھلا دے گا۔۔۔ہم ایمان رکھتے ہیں کہ اگر مولوی ثناء اللہ نے کوئی حیلہ جوئی کر کے اس مباہلہ کو اپنے سر سے نہ ٹال دیا تو پھر خدا تعالیٰ بالضرور مولوی مذکور کے متعلق کوئی ایسا نشان ظاہر کرے گا۔جو صدق و کذب کی پوری تمیز کر دیگا۔۔۔امید ہے کہ اب مولوی ثناء اللہ کو اس خود تجویز کردہ مباہلہ سے گریز کی راہیں تلاش کرنے کی ضرورت نہ محسوس ہوگی۔اے مولوی صاحب نے جو کچھ لکھا تھا۔حضرت مفتی صاحب نے اس کا کافی وشافی جواب دے دیا اور یہ سہولت بھی پیدا کر دی کہ یہ مباہلہ تحریر کے ذریعہ سے ہو جائے لیکن مولوی ثناء اللہ نے محض لوگوں کو دکھانے کے لئے اپنی تحریر میں یہ الفاظ بھی لکھ دیئے تھے۔کہ "مرزائیو! سچے ہو تو آؤ! اور اپنے گرو کو بھی ساتھ لاؤ۔وہی میدان عیدگاہ ه بدر ۱۴ اپریل ۱۹۰۷ء