حیات طیبہ

by Other Authors

Page 397 of 492

حیات طیبہ — Page 397

397 سے شادی کی نوبت نہ آئی۔یہاں تک کہ اس کے ہم خیال علماء ہی نے نہیں۔بلکہ بعض احمد یوں نے بھی اسے توجہ دلائی کہ تم اپنے بیٹے کی شادی کیوں نہیں کرتے۔رفتہ رفتہ اس کی عمر انتیس سال یا اس سے بھی زیادہ ہو جانے پر اس کی نسبت حاجی عبد الرحیم صاحب کی لڑکی سے ہو گئی۔سعد اللہ نے شادی کا سارا سامان خود تیار کیا۔مگر اسے اپنے اکلوتے بیٹے کی شادی کی خوشی میں شریک ہونا نصیب نہ ہوا۔اور وہ شادی سے پہلے ہی ۳/ جنوری ۱۹۰۷ء کو طاعون میں مبتلا ہو کر دنیا سے رخصت ہو گیا۔لیکن عجیب قدرت الہی ہے کہ اُس شادی سے سعد اللہ کے بیٹے کے ہاں کوئی اولاد پیدا نہیں ہوئی۔ایک مدت گزر جانے کے بعد اس کے ہاں اولاد پیدا ہونے سے ناامید ہوکر مولوی ثناء اللہ وغیرہ نے کوشش شروع کی کہ اس کی دوسری شادی کرائی جائے۔مگر وہ اُس سے انکار کرتا تھا لیکن اس خیال سے کہ شاید دوسری شادی سے اولاد پیدا ہو جائے۔اسے دوسری شادی کرنے پر مجبور کر دیا گیا۔مگر ان کی یہ امید اس شادی سے بھی بر نہ آئی۔اور سعد اللہ کا لڑکا بغیر اولاد کے ہی مورخہ ۱۲ جولائی ۱۹۲۶ء کو موضع کوم کلاں ضلع لدھیانہ میں مر گیا۔اگر وہ لڑکا بچپن میں مرجا تا تو کوئی یہ کہہ سکتا تھا کہ یہ اتفاق تھا۔مگر پیشگوئی کے بعد پہلے تو باپ کے ہاں پندرہ سال تک اولاد نہ ہوئی اور جولڑ کا موجود تھا۔باوجود یکہ اس غرض سے دو مرتبہ اس کی شادی کی گئی کہ اگر ایک سے اولاد نہ ہوئی تو دوسری سے ہو جائے اور سعد اللہ کے ابتر ہونے کی پیشگوئی پوری نہ ہونے پائے، لیکن یہ تمام کوششیں رائیگاں گئیں اور اس کے یہاں بھی کوئی اولاد پیدا نہ ہوئی اور جس کے لئے ابتر ہونے کی پیشگوئی کی گئی تھی۔اس کا ابتر ہونا کسی کے مخفی کئے مخفی نہ ہو سکا۔اور وہ ابتر ثابت ہو کر رہا۔فاعتبروا یا اولی الابصار۔سعد اللہ کا بیٹا محکمہ نہر میں نقشہ نویس تھا اور کافی عرصہ شیخو پورہ اور لائل پور میں بسلسلہ ملازمت مقیم رہا۔ملک مولوی محمد شفیع صاحب جو ہماری جماعت کے ایک مخلص دوست ہیں اور آج کل ننکانہ صاحب میں مقیم ہیں۔انہوں نے کئی مرتبہ یہ واقعہ مجھے سنایا ہے کہ سعد اللہ کے بیٹے نے ایک بچی پال رکھی تھی۔اور وہ اُسے ابا ابا کہتی تھی اور وہ کہا کرتا تھا کہ یہ میری بیٹی ہے۔مگر ہم اس سے کہتے تھے کہ تمہارے باپ کے ابتر ہونے کا تو حضرت اقدس کو الہام ہو چکا ہے۔پھر یہ تمہاری بیٹی کس طرح ہو سکتی ہے۔یہ ہرگز تمہاری بیٹی نہیں۔اور اگر تم اس بات میں سچے ہو۔تو ہمارے ساتھ لدھیانہ چلو۔تمہارا آمد ورفت کا کرایہ اور دیگر اخراجات سب ہم برداشت کریں گے اور اگر یہ ثابت ہو جائے کہ یہ تمہاری ہی بچی ہے۔تو ہم تمہیں گرانقدر انعام اس کے علاوہ دیں گے۔مگر بار بار کہنے کے باوجود وہ ہمارے ساتھ لدھیانہ جانے پر رضامند نہ ہوا۔آخر اصل حقیقت معلوم کرنے کے لئے ہم نے اپنے احباب کو لدھیانہ خط لکھا۔وہاں سے جواب آیا کہ سعد اللہ کا بیٹا جھوٹ بولتا ہے۔یہ اس کی سالی کی لڑکی ہے۔جب ہم نے اُسے وہ جواب سنایا تو وہ ایسا خاموش ہوا کہ گویا اس میں جان ہی نہیں۔