حیات طیبہ — Page 396
396 إن شَانِئَكَ هُوَ الابتر - اس الہامی عبارت کا ترجمہ یہ ہے کہ سعد اللہ جو تجھے ابتر کہتا ہے اور یہ دعویٰ کرتا ہے کہ تیرا ( حضرت اقدس کا ) سلسلۂ اولا د اور دوسری برکات کا منقطع ہو جائے گا۔ایسا ہر گز نہیں ہوگا۔بلکہ وہ خود ابتر رہے گا۔‘ا ان تحریروں کی اشاعت کے بعد حضرت اقدس کے ہاں تین لڑکے پیدا ہوئے۔مگر سعد اللہ نو مسلم کے گھر میں کوئی لڑکا پیدا نہ ہوا۔اور جو اولاد اس کے ہاں پہلے پیدا ہو چکی تھی وہ پہلے ہی مر چکی تھی۔چنانچہ ان کے رنج وغم کا اظہار وہ اپنے ان اشعار میں کرتا ہے جو اس نے اپنے مناجات ” قاضی الحاجات“ نامی میں لکھے ہیں جگر گوشه با دادی اے بے نیاز چند زاں با گرفتی تو باز دل من بنعم البدل شاد گن بلطف از و غصہ آزاد کن ز ازواج واولادم اے ذوالمنن بود ہریکے قرة العین من جگر پارہائے کہ رفتند پیش ز مهجوری شاں دلم ریش ریش یعنی اے بے نیاز ! تو نے مجھے اولا د دی تھی۔مگر ان میں سے بعض کو تو نے واپس لے لیا۔اب میرے دل کو ان کے عوض میں اور اچھی اولاد دیکر شاد کر اور اپنے لطف کے ساتھ مجھے رنج و غم سے آزاد کر۔اے احسانوں والے! میری از واج اور اولادکو میری آنکھوں کی ٹھنڈک بنا۔میرے جگر کے ٹکڑے جو فوت ہو چکے ہیں۔ان کے رنج جدائی سے میرا دل ٹکڑے ٹکڑے ہے۔“ سعد اللہ نو مسلم کے ان دردناک اشعار پر نظر ڈال کر ہر شخص سوچ سکتا ہے کہ اولاد نہ ہونے اور مر جانے سے کس قدر حسرتیں اس کے دل میں بھری ہوئی تھیں اور وہ اس دردو غم سے کس قدر بے قرار و بے تاب تھا لیکن وہ اس غم و ہم سے نجات نہ پاسکا اور سالہا سال گریہ وزاری کے ساتھ دعا کرنے پر بھی اُس کے گھر کوئی اولاد پیدا نہیں ہوئی اور حضرت اقدس کے مندرجہ بالا ارشادات کے شائع ہونے کے وقت اُس کا صرف ایک لڑکا محمود نامی چودہ پندرہ سال کی عمر کا موجود تھا مگر اس کے بعد وہ بارہ سال تک زندہ رہا۔لیکن کوئی اولا د اس کے ہاں پیدا نہیں ہوئی۔اور جولڑکا موجود تھا باوجود عمر زیادہ ہو جانے کے اس کی شادی نہیں کی گئی۔ممکن ہے کہ وہ شادی کے قابل نہ ہو۔یا کسی اور وجہ له از اشتہار ۱۷۵ اکتوبر ۱۸۹۴ء مشموله انوار الاسلام