حیات طیبہ

by Other Authors

Page 377 of 492

حیات طیبہ — Page 377

377 وفات کا زمانہ قریب ہے۔اس پر حضور نے اپنی جماعت کو نصائح کرنے کے لئے ایک مختصر سا رسالہ ” الوصیت“ لکھا۔جس میں تحریر فرمایا کہ یہ خدا تعالیٰ کی سنت ہے کہ جب سے کہ اس نے انسان کو زمین میں پیدا کیا ہے۔ہمیشہ اس سنت کو ظاہر کرتا رہا ہے کہ وہ اپنے نبیوں اور رسولوں کی مدد کرتا ہے۔۔۔۔۔۔اور جس راستبازی کو وہ دنیا میں پھیلانا چاہتے ہیں۔اس کی تخم ریزی انہی کے ہاتھ سے کر دیتا ہے لیکن اس کی پوری تکمیل ان کے ہاتھ سے نہیں کرتا بلکہ ایسے وقت میں ان کو وفات دے کر جو بظاہر ایک ناکامی کا خوف اپنے ساتھ رکھتا ہے۔مخالفوں کو جنسی اور ٹھٹھے اور طعن اور تشنیع کا موقعہ دے دیتا ہے۔اور جب وہ ہنسی ٹھٹھا کر چکتے ہیں تو پھر ایک دوسرا ہاتھ اپنی قدرت کا دکھا تا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔غرض وہ دو قسم کی قدرت ظاہر کرتا ہے (۱) اول خود نبیوں کے ہاتھ سے اپنی قدرت کا ہاتھ دکھاتا ہے۔(۲) دوسرے ایسے وقت میں جب نبی کی وفات کے بعد مشکلات کا سامنا پیدا ہو جاتا ہے اور دشمن زور میں آجاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ اب کام بگڑ گیا۔۔۔۔۔۔۔۔تب اللہ تعالیٰ دوسری مرتبہ اپنی زبر دست قدرت ظاہر کرتا ہے اور گرتی ہوئی جماعت کو سنبھال لیتا ہے۔پس وہ جو اخیر تک صبر کرتا ہے۔خدا تعالیٰ کے اس معجزہ کو دیکھتا ہے۔جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیق کے وقت میں ہوا۔جبکہ آنحضرت صلعم کی موت ایک بے وقت موت سمجھی گئی اور بہت سے بادیہ نشین مرتد ہو گئے اور صحابہ بھی مارے غم کے دیوانوں کی طرح ہو گئے۔تب خدا تعالیٰ نے حضرت ابوبکر صدیق کو کھڑا کر کے دوبارہ اپنی قدرت کا نمونہ دکھایا اور اسلام کو نابود ہوتے ہوئے تھام 9209 لیا۔۔۔۔۔سواے عزیز و! جبکہ قدیم سے سنت اللہ یہی ہے کہ خدا تعالی دو قدرتیں دکھلاتا ہے۔تا مخالفوں کی دو جھوٹی خوشیوں کو پامال کر کے دکھاوے۔سواب ممکن نہیں کہ خدا تعالیٰ اپنی قدیم سنت کو ترک کر دیوے۔اس لئے تم میری اس بات سے جو میں نے تمہارے پاس بیان کی ہے ( یعنی خبر وفات سے ) غمگین مت ہو اور تمہارے دل پریشان نہ ہو جا ئیں۔کیونکہ تمہارے لئے دوسری قدرت کا دیکھنا بھی ضروری ہے اور اس کا آنا تمہارے لئے بہتر ہے کیونکہ وہ دائمی ہے۔جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں خدا کی ایک مجسم قدرت ہوں اور میرے بعد بعض اور وجود ہوں گے جو دوسری قدرت کا مظہر ہونگے۔“ اس تحریر میں حضرت اقدس نے حضرت ابوبکر صدیق کی مثال دیکر اپنے بعد خلافت کے قیام کو دوسری ،،