حیات طیبہ — Page 369
369 اثر قبول کریں گے۔حضرت اقدس قادیان سے روانہ ہو کر بٹالہ پہنچے۔سیکنڈ کلاس کا ایک کمرہ آپ کے لئے ریزرو کروایا گیا تھا۔بٹالہ اسٹیشن پر ظہر و عصر کی نمازیں جمع کر کے پڑھی گئیں۔امرتسر میں گاڑیوں کا درمیانی وقفہ پانچ گھنٹے کا تھا۔اس لئے آپ آرام کرنے کے لئے گاڑی سے اتر کر پلیٹ فارم کے ایک طرف درختوں کے سایہ میں بیٹھ گئے۔گو حضرت اقدس نے یہ حکم دے رکھا تھا کہ امرتسر کے احمدیوں کو اطلاع نہ دی جائے مگر ان کو کسی نہ کسی ذریعہ سے پتہ لگ ہی گیا۔جس پر آنا فانا کافی دوست اکٹھے ہو گئے اور شام کا کھانا جماعت امرتسر کی طرف سے ہی اسٹیشن پر پیش کیا گیا۔اے رات کے نو بجے گاڑی امرتسر کے اسٹیشن سے روانہ ہوئی اور قریبا ساڑھے تین بجے صبح دہلی پہنچی۔راستہ کے اسٹیشنوں پر احباب جماعت حضور سے ملاقات کرتے رہے۔مگر جب لدھیانہ کے احباب اپنے محبوب آقا کی ملاقات کے لئے اسٹیشن پر پہنچے۔تو حضرت اقدس کی آنکھ لگ چکی تھی۔اس واسطے ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب نے حضرت اقدس کو جگانے سے انکار کر دیا۔جس کی وجہ سے دوست ملاقات نہ کر سکے۔دہلی پہنچ کر جب حضرت اقدس کو پتہ لگا تو فرمایا کہ واپسی پر ہم لدھیانہ میں ضرور قیام کریں گے۔دہلی میں حضور نے چتلی قبر میں الف خاں کے مکان پر قیام فرمایا۔خواجہ باقی باللہ کے مزار پر دُعا ۲۴ اکتوبر کی صبح حضرت مفتی محمد صادق صاحب سے فرمایا کہ یہاں بعض بزرگ اولیاء اللہ کی قبریں ہیں۔ان کی فہرست بنالیں تا جانے کے لئے انتظام کیا جائے چنانچہ سب سے پہلے حضرت اقدس خواجہ باقی باللہ رحمتہ اللہ علیہ کے مزار پر پہنچے اور دونوں ہاتھ اُٹھا کر اُن کے لئے دُعا کی۔اس موقعہ پر حضرت مفتی صاحب نے عرض کیا۔کہ حضور! قبر پر کیا دُعا کرنی چاہئے؟ فرمایا کہ صاحب قبر کے واسطے دُعائے مغفرت کرنی چاہئے اور اپنے واسطے بھی خدا سے دعا مانگنی چاہئے۔“ خواجہ صاحب کے کتبہ پر ایک فارسی نظم لکھی تھی۔فرمایا کہ اسے نقل کرلو۔اس کے بعد بعض اور بزرگوں کی قبروں کو دیکھا۔جامع مسجد دہلی دیکھ کر واپسی پر جامع مسجد دہلی کو دیکھ کر فرمایا کہ: الحکم ۶ دسمبر ۱۹۰۵ء