حیات طیبہ — Page 365
365 بہت بڑی بڑی پارٹیاں منعقد ہوتی رہیں اور ان کے سفر کے لئے بھی پورے جاہ وجلال کے ساتھ شاہانہ انتظامات کئے جاتے رہے اور یہ سارے اعزازات انہیں اس لئے دیئے جاتے رہے تاجب حضرت اقدس کی پیشگوئی کے ماتحت انہیں ذلیل ہو کر اپنے ملک سے بھاگنا پڑے تو اس واقعہ کو ایک معمولی واقعہ نہ سمجھا جائے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ان کے فرار ہونے پر تمام دنیا کے اخبارات نے بڑے بڑے آرٹیکل لکھے اور ایک معمولی سے آدمی کے ہاتھوں شکست کھا کر بھاگنے کو ایک غیر معمولی واقعہ قرار دیا گیا۔اب دیکھو۔اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو اس جنگ میں ہی امان اللہ خاں ہلاک کر دیئے جاتے اور اس طرح چند روز تک ان واقعات کا تذکرہ لوگوں کی زبانوں پر رہتا اور پھر لوگ بھول جاتے۔مگر اللہ تعالیٰ حضرت اقدس کے الہام لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلَا يَخلي “ کے مطابق انہیں ذلت کی ایک چلتی پھرتی تصویر بنانا چاہتا تھا۔اس لئے اُن کے لئے یہ مقدر کیا گیا کہ وہ اس جلا وطنی کی حالت میں ہی زندگی کے باقی ماندہ ایام گزار ہیں۔خدا کی قدرت ! کہ ان کی زندگی کے دن بھی لمبے ہو گئے اور وہ آج تک اٹلی میں ایک ہوٹل کے مالک کی حیثیت سے اپنی حیات مستعار کے دن بسر کر رہے ہیں۔کاش! خدا ترس لوگ اس واقعہ سے ہی عبرت حاصل کریں۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی کی بیماری۔اگست ۱۹۰۵ء ۱۹۰۵ء کے واقعات میں سے ایک خاص واقعہ سلسلہ احمدیہ کے ایک قابل فخر عالم اور حضرت اقدس کے نہایت مشہور مخلص مُرید اور حواری حضرت مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی کی وفات ہے حضرت مولوی صاحب خوش الحانی کے ساتھ قرآن پڑھنے میں نمایاں شان رکھتے تھے۔غیور اس قدر تھے کہ بڑے بڑے مخالفوں کو بھی ان کی جلالی آواز اور خداداد ذہانت کے آگے جھکنا پڑتا تھا۔آپ کو ذیابطیس کی بیماری تھی۔جس کے نتیجہ میں اگست ۱۹۰۵ ء میں آپ کی پشت پر دونوں شانوں کے درمیان کار بنکل کا پھوڑا نکل آیا۔حضرت مولانا حکیم نورالدین صاحب، جناب ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب ، حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب اور جناب ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب جیسے قابل معالجوں نے آپ کے علاج میں کوئی کسر نہ اُٹھا رکھی۔کئی اپریشن کئے گئے۔مگر کوئی فائدہ نہ ہوا۔حضرت اقدس نے علاج کے لئے اس قدر کوشش اور جدو جہد فرمائی کہ روپیہ کو پانی کی طرح بہا دیا۔حضرت مولوی صاحب جس چیز کی خواہش کرتے۔حضور خاص آدمی بھیج کر لاہور یا امرتسر سے منگوا دیتے۔چنانچہ ٹھنڈا پانی جو حضرت مولوی صاحب کو خاص طور پر مرغوب تھا۔اس کے لئے حضرت اقدس برف منگوا کر ہمیشہ محفوظ رکھتے۔ایک مہینہ تک لگا تار مرغ کی یخنی حضرت مولوی صاحب کے لئے تیار ہوتی رہی۔قیمتی سے قیمتی دوائیں استعمال کی جاتی رہیں۔