حیات طیبہ

by Other Authors

Page 356 of 492

حیات طیبہ — Page 356

356 جنگ عظیم کی پیشگوئی۔اپریل ۱۹۰۵ء حضرت اقدس ان دنوں اپنی مشہور کتاب ”براہین احمدیہ حصہ پنجم تصنیف فرمارہے تھے اس کتاب میں حضور نے موعودہ زلزلہ کی کسی قدر تفصیل ایک اردو نظم میں بیان فرمائی ہے اور اس نظم کے حاشیہ میں لکھا ہے کہ: ”خدا تعالیٰ کی وحی میں زلزلہ کا بار بار لفظ ہے۔اور فرمایا کہ ایسا زلزلہ آئے گا۔جو نمونہ قیامت ہوگا۔بلکہ قیامت کا زلزلہ اس کو کہنا چاہئے۔جس کی طرف سورة إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَا اشارہ کرتی ہے لیکن میں ابھی تک اس زلزلہ کے لفظ کو قطعی یقین کے ساتھ ظاہر پر جما نہیں سکتا۔ممکن ہے کہ یہ معمولی زلزلہ نہ ہو بلکہ کوئی اور شدید آفت ہو جو قیامت کا نظارہ دکھلاوے۔جس کی نظیر کبھی اس زمانہ نے نہ دیکھی ہو۔اور جانوں اور عمارتوں پر سخت تباہی آوے۔ہاں اگر ایسا فوق العادت نشان ظاہر نہ ہو اور لوگ کھلے طور پر اپنی اصلاح بھی نہ کریں تو اس صورت میں میں کا ذب ٹھہروں گا۔مگر میں بار بار لکھ چکا ہوں کہ یہ شدید آفت جس کو خدا تعالیٰ نے زلزلے کے لفظ سے تعبیر کیا ہے۔صرف اختلاف مذہب پر کوئی اثر نہیں رکھتی اور نہ ہند و یا عیسائی ہونے کی وجہ سے کسی پر عتاب آسکتا ہے اور نہ اس وجہ سے آسکتا ہے کہ کوئی میری بیعت میں داخل نہیں۔یہ سب لوگ اس تشویش سے محفوظ ہیں پس جو شخص خواہ کسی مذہب کا پابند ہو۔جرائم پیشہ ہونا اپنی عادت رکھے اور فسق و فجور میں غرق ہو۔اور زانی اور خونی۔چور۔ظالم اور ناحق کے طور پر بداندیش، بد زبان اور بدچلن ہو اس کو اس سے ڈرنا چاہئے اور اگر تو بہ کرے۔تو اس کو بھی کچھ غم نہیں اور مخلوق کے نیک کردار اور نیک چلن ہونے سے یہ عذاب ٹل بھی سکتا ہے۔مذکورہ بالا نظم چار سو چھپن اشعار پر مشتمل ہے جس میں آپ نے اپنا دعویٰ، اس کے دلائل، مخالفین کی حالت اور ان کا انجام بڑی شرح وبسط کیساتھ پیش فرمایا ہے اور آخر میں زلزلے کا نقشہ مندرجہ ذیل اشعار میں کھینچا ہے۔آسماں شور ہے پر دن تو روشن تھا مگر کچھ نہیں تم کو خبر ہے بڑھ گئی گردوغبار اک نشاں ہے آنے والا آج سے کچھدن کے بعد جس سے گردش کھا ئینگے دیہات و شہر اور مرغزار لے براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحه ۱۲۰