حیات طیبہ — Page 347
347 آپ کو مثیل کرشن کی حیثیت میں پیش فرمایا۔اس کے بعد آپ نے ہندوؤں اور آریوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ میں تمہیں بحیثیت کرشن ہونے کے یہ نصیحت کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے ساتھ مادہ اور روح کو از لی اور ابدی ماننا ایک ایسا عقیدہ ہے جو سراسر غلط اور شرک سے بھرا ہوا ہے۔اس لئے اس عقیدہ کو چھوڑ دو۔ایسا ہی فرمایا کہ تناسخ کا عقیدہ بھی غلط ہے اور نیوگ کرانا تو ایسا گندہ فعل ہے کہ اسے بیان کرتے ہوئے بھی شرم آتی ہے۔لیکچر ختم ہو جانے کے بعد جب حضور ایک بند گاڑی میں معہ خدام جائے قیام کی طرف روانہ ہوئے تو راستہ میں مخالف لوگوں نے آپ کی گاڑی پر خشت باری شروع کر دی لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحم سے حضور بحفاظت جائے قیام پر پہنچ گئے۔مخالفین کی ان شرارتوں کو دیکھ کر ایک یورپین انسپکٹر پولیس نے جو اس وقت ڈیوٹی پر تھے۔ان مولویوں کو مخاطب کر کے کہا۔ہم کو تعجب ہے کہ تم لوگ اس شخص کی مخالفت کیوں کرتے ہو۔مخالفت تو ہم ( یعنی عیسائیوں ) کو یا ہندوؤں کو کرنی چاہئے تھی۔جن کے مذہب کی وہ تردید کر رہا ہے۔اسلام کو تو وہ سچا اور حقیقی مذہب ثابت کر رہا ہے۔ستیا ناس تو ہمارے مذہب کا کر رہا ہے اور تم یونہی مخالفت کر رہے ہو۔“ 1 بیعت کنندگان کی کثرت ۳ نومبر ۱۹۰۴ء کوحضور کی واپسی کا پروگرام تھا۔اس لئے ۲ نومبر کو یعنی لیکچر والے دن کثرت سے لوگوں نے حضور کے ہاتھ پر بیعت کی۔حضرت چوہدری نصر اللہ خانصاحب کی بیعت مکرمی و محترمی چوہدری اسد اللہ خاں صاحب بیرسٹر امیر جماعت احمد یہ لاہور سے فرماتے ہیں کہ ہمارے والد ( چوہدری نصر اللہ خاں ) صاحب نے بھی ۲ یا ۳ نومبر کو ہی بیعت کی تھی۔اور ہماری والدہ صاحبہ ایک خواب کی بناء پر چند روز پہلے ہی بیعت کر چکی تھیں۔سکے حضرت والد صاحب حقائق کا گہری نظر سے مطالعہ کرنے والے انسان تھے اور حضرت اقدس کے کیر کٹ کو اچھی طرح جانتے تھے۔چنانچہ مولوی کرم الدین والے مقدمہ میں حضرت اقدس نے والد صاحب کو اپنی طرف سے بطور گواہ بھی طلب کیا تھا اور گواہی سے قبل فرمایا تھا کہ چودھری صاحب! آپ نے گواہی میں وہی کچھ کہنا ہے جس کا آپ کو علم ہے اور اس سے والد صاحب بہت متاثر ہوئے تھے اور جماعت کی له الحکم ۱۳۰ نومبر و دسمبر ۱۹۰۳ء کے برادر اصغر چوہدری سرمحمد ظفر اللہ خاں صاحب ے ہز ایکسی لنسی چوہدری سر محمد ظفر اللہ خاں صاحب نے جو خود بھی حضرت اقدس کے صحابی ہیں اپنی تصنیف ”میری والدہ میں بیان فرمایا ہے کہ والد صاحب اور والدہ صاحبہ دونوں کی بیعت کے وقت وہ ساتھ تھے۔