حیات طیبہ — Page 318
318 لیکن قارئین کرام کی آسانی کے لئے میں چاہتا ہوں کہ یہ الگ الگ بیان کئے جائیں۔لالہ گنگا رام صاحب مجسٹریٹ کا ذکر اوپر آچکا ہے کہ اُن کی عدالت میں ازالہ حیثیت عرفی کے مقدمات دائر کئے گئے تھے، مگر اس اثناء میں وہ تبدیل ہو چکے تھے اور ان کی بجائے ایک کٹر اور متعصب آریہ لالہ چند ولعل صاحب آچکے تھے۔مقدمہ نمبر : دغا کا مقدمہ جو حضرت حکیم مولوی فضل الدین صاحب کی طرف سے مولوی کرم الدین کے خلاف کیا گیا تھا۔وہ یہ تھا کہ پہلے مولوی کرم الدین نے یہ لکھا تھا کہ 'اعجاز اسیح اور شمس بازغہ“ پر جو نوٹس لکھے ہوئے ہیں۔وہ مولوی محمد حسن متوفی کے ہیں۔اور بعد کو سراج الاخبار جہلم میں لکھا کہ اُن کے لکھے ہوئے نہیں۔اس مقدمہ میں یہ معاملہ صاف ہونا تھا۔نیز اس امر کی تصدیق ہوئی تھی کہ پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی نے جو خط مولوی کرم الدین صاحب کو لکھا تھا۔جس میں انہوں نے اعتراف کیا تھا کہ میں نے محمد حسن متوفی کے نوٹ ہی سیف چشتیائی“ میں نقل کئے ہیں آیا وہ خط انہی کا تھا یا کسی اور کا۔پیر گولڑوی صاحب ۲۲ جون ۱۹۰۳ء کو عدالت میں طلب کئے گئے تھے مگر انہیں چونکہ اصل حقیقت کا علم تھا۔انہوں نے ڈاکٹری سرٹیفکیٹ بھیج کر اپنی جان چھڑائی۔اس کے بعد بھی وہ کئی دفعہ عدالت میں طلب کئے گئے۔مگر ہر بار ہی وہ ڈاکٹری سرٹیفکیٹ بھجواتے رہے اور اس طرح قرآن کریم کے فتوے مَن يَكْتُبُهَا فَإِنَّهُ اثِمٌ قَلْبُه یعنی جو شہادت کو چھپاتا ہے اس کا دل گنہگار ہے۔کی زد کے نیچے آگئے۔مولوی کرم الدین نے دعا کے الزام سے بچنے کے لئے اُن مضامین سے جو انہوں نے سراج الاخبار جہلم میں شائع کئے تھے۔انکار ہی کر دیا۔یہ مقدمہ نہایت صاف تھا۔مگر مجسٹریٹ صاحب چونکہ متعصب آریہ تھے۔اس لئے انہوں نے اس مقدمہ کو بہت لڑکا یا۔حتی کہ آٹھ ماہ اس پر گزر گئے۔اس اثنا میں ان کی طرف سے بعض جانبداری کے امور دیکھ کر خواجہ کمال الدین صاحب نے ۱۴؍ جنوری ۱۹۰۴ء کو یہ مقدمات کسی دوسری عدالت میں منتقل کر دیئے جانے کی درخواست دے دی اور اسی تاریخ کو لالہ چند لحل صاحب کی عدالت میں بھی یہ درخواست پیش کی کہ مقدمات کی سماعت ملتوی کر دی جائے۔لالہ چند لحل صاحب نے اس دعا کے مقدمہ کا فیصلہ تو اسی روز سنادیا اور باقی مقدمات کے لئے تاریخ ۱۶ فروری ۱۹۰۴ ء ڈال دی۔فیصلہ انہوں نے یہ سنایا کہ جو خطوط مولوی کرم الدین نے (حضرت ) مرزا صاحب اور قادیان کے احمدیوں کو لکھے تھے وہ اس کے لکھے ہوئے ہیں اور سراج الاخبار میں شائع شدہ مضامین بھی اسی کے ہیں اور بعد کو اس کا یہ لکھنا کہ سراج الاخبار والے مضامین میرے نہیں ہیں۔جھوٹ ہے۔تاہم اس نے حکیم مولوی فضل الدین کو دغا کوئی نہیں دی۔لہذا دغا کا مقدمہ خارج۔