حیات طیبہ

by Other Authors

Page 319 of 492

حیات طیبہ — Page 319

319 اس مقدمہ میں جو بظاہر خارج ہو گیا۔عدالت نے یہ فیصلہ ضرور دے دیا کہ میاں شہاب الدین اور مولوی کرم الدین کے خطوط اصلی ہیں اور پیر گولڑوی صاحب کا خط بھی اصلی ہے اور اس فیصلہ سے حضرت اقدس پر جو الزام لگا یا گیا تھاوہ غلط ثابت ہو گیا اور پیر صاحب لَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةً کی زد سے نہیں بچ سکے۔مقدمہ نمبر ۲: دوسرا مقدمہ حضرت حکیم مولوی فضل الدین صاحب کی طرف سے یہ تھا کہ مولوی کرم الدین نے کتاب ” نزول مسیح کی اشاعت سے قبل اس کے مصنف اور مالک مطبع کی مرضی کے خلاف اس کے اوراق حاصل کئے جو صریح طور پر سرقہ ہے لیکن لالہ چند ولعل صاحب مجسٹریٹ چونکہ بڑی دلیری کے ساتھ حضرت اقدس اور آپ کی جماعت کے خلاف چل رہے تھے۔اس لئے انہوں نے دس مہینے کے بعد ۱۶ / مارچ ۱۹۰۴ء کو یہ مقدمہ بھی خارج کر دیا۔مقدمہ نمبر ۳ و نمبر ۴: اب صرف دو مقدمے باقی رہ گئے۔مقدمہ نمبر ۳ جس میں حضرت شیخ یعقوب علی صاحب تراب نے مولوی کرم الدین اور ایڈیٹر سراج الاخبار کے خلاف ازالہ حیثیت عرفی کا دعوی کیا تھا اور مقدمہ نمبر ہ جس میں کرم الدین نے حضرت اقدس کے خلاف ازالہ حیثیت عرفی کا دعویٰ کیا تھا۔مقدمہ نمبر ۴ چونکہ بہت اہم تھا اور مجسٹریٹ اسی کو زیادہ اہمیت دے رہا تھا۔اس لئے ہم بھی اس کا تفصیل سے ذکر کرتے ہیں۔مقدمہ نمبر ۳ کا ذکر اس کے دوران میں ہی آجائے گا۔سو واضح ہو کہ مولوی کرم الدین صاحب کا زیادہ زور اس بات پر تھا کہ ”مواہب الرحمن‘ کے تین الفاظ بہتان، کذاب اور لیم میرے لئے سخت نا قابل برداشت ہیں اور ان سے میری سخت تو ہین ہوئی ہے لیکن اگر غور کیا جائے تو یہ الفاظ ان پر بالکل صحیح طور پر چسپان ہوتے تھے کیونکہ لالہ چند بعل صاحب خود ہی یہ فیصلہ دے چکے تھے کہ جو خطوط کرم الدین نے حضرت اقدس اور آپ کے اصحاب کو لکھے وہ بھی انہی کے ہیں اور سراج الاخبار میں جو مضمون لکھے گئے وہ بھی انہوں نے ہی لکھے تھے اور عدالت میں صریح جھوٹ بولا تھا کہ یہ خطوط اور مضامین میرے نہیں تو ایسی صورت میں اُن کے کذاب ہونے میں کیا شک اور جو اس قدر جھوٹ اور بہتان سے کام لے۔اس کے لیم ہونے میں کیا کسر باقی رہ جاتی ہے مگر برا ہو تعصب کا۔لالہ چند لحل صاحب نے اس مقد مہ کو اتنا لمبا کیا۔اتنا لمبا کیا کہ ڈپٹی کمشنر صاحب جو انگریز تھے وہ بھی اس پر اظہار تعجب کئے بغیر نہ رہ سکے۔چونکہ وہ اکثر اپنی عدالت کو جاتے ہوئے حضرت اقدس اور آپ کے اصحاب کو احاطہ کچہری میں بیٹھے ہوئے دیکھتے تھے اس لئے ایک دفعہ انہوں نے سخت متعجب ہو کر کہا کہ اگر یہ مقدمہ میرے پاس ہوتا تو میں اس کا ایک دن میں فیصلہ کر دیتا۔اس مقدمہ میں آریہ مجسٹریٹ تو مخالف تھے ہی بعض مسلمان مجسٹریٹوں نے بھی مولوی کرم الدین کا ساتھ دیا۔اور لاہور کا پیسہ اخبار بھی حضرت اقدس کی مخالفت اور مولوی کرم الدین کی تائید میں مضامین لکھتا اور اس کے لئے چندہ کی اپیلیں کرتا