حیات طیبہ

by Other Authors

Page 289 of 492

حیات طیبہ — Page 289

289 کے الفاظ سے دیا گیا۔حالانکہ ایسا جواب صحیح نہیں ہے۔“ 66 اس عبارت سے ظاہر ہو گیا کہ حضور نے اس اشتہار کے ابتدا ہی میں جس امر کو سراسر واقعہ کے خلاف اور اہل حق کے لئے سراسر موجب ندامت قرار دیا اور جماعت کو اس کے ضرر و نقصان سے آگاہ و محفوظ کر دینے کے لئے ایک مخصوص اشتہار شائع فرمانا ضروری خیال فرمایا۔وہ امر ایک ناواقف احمدی کا کسی معترض کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے یہ کہہ دینا تھا کہ حضرت اقدس نے نبوت و رسالت کا دعویٰ نہیں کیا ہے۔حضور کی اس تحریر کے بعد مسلمانوں کے مشہور عقیدہ کی بناء پر بجاطور پر یہ سوال پیدا ہوسکتا تھا کہ خاتم النبیین کے بعد نبی کیسا؟ سو حضرت اقدس نے خود ہی اس سوال کو اُٹھا کر اس کا جواب دیا ہے۔حضور فرماتے ہیں: سواگر یہ کہا جائے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو خاتم النبین ہیں۔پھر آپ کے بعد اور نبی کس طرح آسکتا ہے تو اس کا جواب یہی ہے کہ بیشک اس طرح سے تو کوئی نبی نیا ہو یا پرانا نہیں آسکتا۔جس طرح سے آپ لوگ حضرت عیسی علیہ السلام کو آخری زمانہ میں اتارتے ہیں اور پھر اس حالت میں ان کو نبی بھی مانتے ہیں بلکہ چالیس برس تک سلسلہ وحی نبوت کا جاری رہنا اور زمانہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی بڑھ جانا آپ لوگوں کا عقیدہ ہے۔بیشک ایسا عقیدہ تو معصیت ہے اور آیت وَلكِن رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ اور حدیث لا نَبِيَّ بَعْدِي اس عقیدہ کے کذب صریح ہونے پر کامل شہادت ہے، لیکن ہم اس قسم کے عقائد کے سخت مخالف ہیں اور ہم اس آیت پر سچا اور کامل ایمان رکھتے ہیں جو فرمایا کہ وَلَكِن رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النبيين اور اس آیت میں ایک پیشگوئی ہے جس کی ہمارے مخالفوں کو خبر نہیں اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالی اس آیت میں فرماتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد پیشگوئیوں کے دروازے قیامت تک بند کر دیئے گئے اور ممکن نہیں کہ اب کوئی ہندو یا یہودی یا عیسائی یا کوئی رسمی مسلمان نبی کے لفظ کو اپنی نسبت ثابت کر سکے۔نبوت کی تمام کھڑکیاں بند کی گئیں مگر ایک کھڑ کی سیرت صدیقی کی کھلی ہے یعنی فنافی الرسول کی۔پس جو شخص اس کھڑکی کی راہ سے خدا کے پاس آتا ہے اس پر خالی طور پر وہی نبوت کی چادر پہنائی جاتی ہے جو نبوت محمدی کی چادر ہے۔اس لئے اس کا نبی ہونا غیرت کی جگہ نہیں کیونکہ وہ اپنی ذات سے نہیں۔بلکہ اپنے نبی کے چشمہ سے لیتا ہے۔۔۔پس یہ آیت کہ مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِن رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ۔اس کے معنی یہ ہیں کہ لَیسَ مُحَمَّد اَبا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِ الدُّنْيَا وَلكِن هُوَ اب لِرِجَالِ الْأَخِرَةِ لِأَنَّهُ خَاتَمُ النَّبِيِّينَ وَلَا سَبِيلَ إِلى فُيُوضِ اللَّهِ مِنْ غَيْرِ