حیات طیبہ — Page 288
288 یہ تو ان لوگوں کے عقائد حضرت اقدس اور حضرت مولانا نورالدین صاحب خلیفہ امسیح الاول کے زمانہ میں تھے لیکن جماعت سے علیحدگی کے بعد جناب مولوی محمد علی صاحب نے اعلان کیا کہ میں مرزا صاحب کو نبی قرار دینا نہ صرف اسلام کی بیگنی سمجھتا ہوں بلکہ میرے نزدیک خود مرزا صاحب پر بھی اس سے بہت زد پڑتی ہے۔1 نیز لکھتے ہیں : اُمت کے اندر ہو کر بھی نبوت کا دعویٰ کرنا کذاب کا کام ہے۔“ ان حوالوں سے جو نتیجہ لازمی طور پر نکلتا ہے وہ واضح ہے۔ناظرین پر مسئلہ نبوت کی وضاحت کرنے کے بعد اب ہم اشتہار ایک غلطی کا ازالہ کی وجہ تصنیف کا ذکر کرتے ہیں سوجیسا کہ بیان کیا جا چکا ہے۔حضرت اقدس ایک زمانہ تک نبی کی مروجہ تعریف کے مطابق اپنے منصب کا نام ”نبی کی بجائے محدث “ رکھتے تھے اور یہ زمانہ سن ۱۹۰۰ء سے پہلے کا زمانہ ہے ۱۹۰۱ ء میں حضور پر اس امر کا اچھی طرح سے انکشاف ہو چکا تھا کہ نبوت کی مروجہ تعریف جس کے ماتحت آپ اپنی نبوت سے انکار کرتے تھے قطعا غلط اور اسلام کے خلاف ہے۔اس لئے آپ نے اپنے اصحاب کے رو برواس کی وضاحت شروع فرما دی تھی چنانچہ اگر حضرت مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی کے اس زمانہ کے خطبات جمعہ وغیرہ کا مطالعہ کیا جائے تو اس امر کی بخوبی تصدیق ہو سکتی ہے کہ حضرت مولوی صاحب موصوف حضرت اقدس کو نبی ورسول کی حیثیت میں ہی پیش کیا کرتے تھے۔ایسے زمانہ میں جبکہ حضرت اقدس پر اپنے منصب و مقام کی پوری طرح وضاحت ہو چکی تھی ایک ناواقف احمدی سے امرتسر کے مقام پر کسی معترض نے یہ اعتراض کر دیا کہ ”جس سے تم نے بیعت کی ہے وہ نبی اور رسول ہونے کا دعوی کرتا ہے اور اس کا جواب اُس شخص نے محض انکار کے الفاظ سے دیا۔حالانکہ ایسا جواب صحیح نہیں تھا۔حضرت اقدس اس احمدی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”ہماری جماعت میں سے بعض صاحب جو ہمارے دعوئی اور دلائل سے کم واقفیت رکھتے ہیں۔جن کو نہ بغور کتابیں دیکھنے کا اتفاق ہوا اور نہ وہ ایک معقول مدت تک صحبت میں رہ کر اپنے معلومات کی تکمیل کر سکے وہ بعض حالات میں مخالفین کے کسی اعتراض پر ایسا جواب دیتے ہیں کہ جوسراسر واقعہ کے خلاف ہوتا ہے۔اس لئے باوجود اہلِ حق ہونے کے ان کو ندامت اُٹھانی پڑتی ہے۔چنانچہ چند روز ہوئے کہ ایک صاحب پر ایک مخالف کی طرف سے یہ اعتراض پیش ہوا کہ جس کی تم نے بیعت کی ہے وہ نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور اس کا جواب محض انکار ا پیغام صلح جلد ۲ صفحه ۱۱۹ مورخه ۱۶ را پریل ۱۹۱۵ء النوت فی الاسلام صفحہ ۱۱۵