حیات طیبہ

by Other Authors

Page 287 of 492

حیات طیبہ — Page 287

287 سے صرف تیسرے یعنی حضرت عیسی علیہ السلام کو مدعی نبوت کہا ہے۔یا پھر حضرت اقدس کو مدعی نبوت کی حیثیت سے زیر بحث لا کر آپ کی نبوت ثابت کرنا چاہتے ہیں۔اس لئے باقی بزرگوں کے ذکر کو جو خواجہ صاحب موصوف نے پیش کئے۔اس وجہ سے غیر متعلق قرار دیتے ہیں کہ ان میں سے کوئی بھی مدعی نبوت نہیں تھا۔ایسا ہی ۱۹۰۴ ء میں مولوی کرم الدین صاحب ساکن بھیں کے مقدمہ میں بھی مولوی صاحب موصوف جب استغاثہ کی طرف سے بطور گواہ پیش ہوئے تو انہوں نے عدالت میں با قرار صالح یہ بیان دیا کہ مکذب مدعی نبوت کذ آب ہوتا ہے۔مرزا صاحب ملزم مدعی نبوت ہے۔“ گو یا حضرت اقدس کی زندگی میں جناب مولوی صاحب اور آپ کے سب ساتھی حضور کو ہمیشہ نبی ہی کہتے اور لکھتے تھے۔بلکہ خلیفہ اسیح اول حضرت مولانا نورالدین صاحب کے زمانہ میں بھی حضرت اقدس کا یہی منصب و مقام سمجھتے تھے البتہ آپ کی خلافت کے آخری سالوں میں ان لوگوں نے کچھ سوچ کر اندر ہی اندر اس مسئلہ میں اختلاف کرنا شروع کر دیا تھا مگر حضرت خلیفہ اُسیح الاوّل سے ڈرتے بھی تھے۔چنانچہ ایسے ہی کسی موقعہ پر جب ان لوگوں کے عقائد کے متعلق جماعت میں چہ میگوئیاں شروع ہوئیں تو انہوں نے اپنے اخبار ”پیغام صلح میں یہ اعلان کیا کہ معلوم رہے کہ بعض احباب کو کسی نے غلط نہی میں ڈال دیا ہے کہ اخبار ہذا کیساتھ تعلق رکھنے والے یا ان میں سے کوئی ایک سید نا و ہادینا حضرت مرزا غلام احمد صاحب مسیح موعود و مہدی معہود علیہ الصلوۃ والسلام کے مدارج عالیہ کو اصلیت سے کم یا استخفاف کی نظر سے دیکھتا ہے۔ہم تمام احمدی جن کا کسی نہ کسی صورت سے اخبار پیغام صلح کے ساتھ تعلق ہے خدا تعالیٰ کو جو دلوں کے بھیدوں کو جاننے والا ہے حاضر و ناظر جان کر علی الاعلان کہتے ہیں کہ ہماری نسبت اس قسم کی غلط فہمی پھیلا نامحض بہتان ہے۔ہم حضرت مسیح موعود و مہدی معہود کو اس زمانہ کا نبی ، رسول اور نجات دہندہ مانتے ہیں اور جو درجہ حضرت مسیح موعود نے اپنا بیان فرمایا ہے اس سے کم و بیش کرنا موجب سلب ایمان سمجھتے ہیں۔ہمارا ایمان ہے کہ دنیا کی نجات حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے غلام حضرت مسیح موعود پر ایمان لائے بغیر نہیں ہوسکتی۔اس کے بعد ہم اس کے خلیفہ برحق سیدنا ومرشد ناومولانا حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفتہ اسیح کو بھی سچا پیشوا سمجھتے ہیں۔اس اعلان کے بعد اگر کوئی ہماری نسبت بدظنی پھیلانے سے باز نہ آئے تو ہم اپنا معاملہ خدا پر چھوڑتے ہیں۔لے لے پیغام صلح ۱۶ / اکتوبر ۱۹۱۳ء