حیات طیبہ — Page 271
271 قباحت لازم آ گئی۔جو شخص ہزار ہا صفحات پر مشتمل فصیح و بلیغ عربی لکھ سکتا ہے۔اُسے کیا ضرورت پیش آئی ہے کہ وہ دو چار فقرے کسی دوسری کتاب سے نقل کرے یہ تو ایک قسم کا توار د ہے جو بلغاء کی مبسوط کتابوں میں اکثر پایا جاتا ہے۔آپ نے اس قسم کے توار د کی کئی ایک مثالیں بھی پیش فرمائی ہیں۔دوسرے اعتراض کے جواب میں آپ نے ” خدا کے کلام اور حدیث النفس یا شیطانی القاء کے مابہ الامتیاز کے طور پر ایک نہایت ہی لطیف مضمون کئی صفحات پر مشتمل درج فرمایا ہے۔جو پڑھنے سے ہی تعلق رکھتا ہے۔افسوس کہ اس تحریر کے زیادہ طویل ہو جانے کے خیال سے ہم اس لطیف مضمون کو یہاں درج کرنے سے قاصر ہیں۔ناظرین نزول اسیح ، صفحہ ۸۵ سے ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔پیر صاحب کا تصنیفی سرقہ حضرت اقدس پر تو پیر صاحب نے دو سو صفحات کی کتاب میں سے دو چار فقرے لے کر سرقہ کا الزام لگایا تھا۔جس کا حضرت اقدس نے نہایت ہی کافی وشافی جواب دیا تھا، لیکن پیر صاحب کے متعلق یہ ثابت ہو گیا کہ انہوں نے ساری کتاب سرقہ کر کے اپنی طرف منسوب کر لی ہے۔تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ حضرت اقدس ” نزول مسیح میں پیر صاحب کی کتاب ”سیف چشتیائی" کا جواب لکھنے میں مصروف تھے کہ اچانک ۲۶ جولائی ۱۹۰۲ ء کو موضع بھیں ضلع جہلم سے ایک شخص میاں شہاب الدین نے آپ کی خدمت میں ایک خط لکھا کہ میں پیر مہرعلی شاہ کی کتاب دیکھ رہا تھا کہ اتنے میں اتفاقاً ایک آدمی مجھ کو ملا۔جس کے پاس کچھ کتا بیں تھیں اور وہ میولوی محمد حسن کے گھر کا پتہ پوچھتا تھا اور استفسار پر اس نے بیان کیا کہ محمدحسن کی کتابیں پیر صاحب نے منگوائی تھیں اور اب واپس دینے آیا ہوں۔میں نے وہ کتا ہیں جب دیکھیں تو ایک اُن میں اعجاز مسیح تھی اور دوسری شمس بازغہ جن پر محمد حسن متوفی کے اپنے ہاتھ کے نوٹ لکھے ہوئے تھے اور اتفاقاً اس وقت کتاب سیف چشتیائی بھی میرے پاس موجود تھی۔جب میں نے ان نوٹوں کا اس کتاب سے مقابلہ کیا تو جو کچھ محمدحسن نے لکھا تھا۔بلفظها بغیر کسی تصرف کے پیر مہر علی نے بطور سرقہ اپنی کتاب میں نقل کر لیا تھا بلکہ یہ تبدیل الفاظ یوں کہنا چاہئے کہ پیر مہر علی شاہ کی کتاب وہی مسروقہ نوٹ ہیں اس سے زیادہ کچھ نہیں۔پس مجھے کو اس سرقہ اور خیانت سے سخت حیرت ہوئی کہ کس طرح اس نے ان تمام نوٹوں کو اپنی طرف منسوب کر دیا۔یہ ایسی کارروائی تھی کہ اگر ہر علی کو کچھ شرم ہوتی تو اس قسم کے سرقہ کا راز کھلنے سے مرجاتا نہ کہ شوخی اور ترک حیا سے اب تک دوسرے شخص کی تالیف کو جس میں اس کی جان گئی اپنی طرف منسوب کرتا اور اس بد قسمت مردہ کی تحریر کی طرف ایک ذرہ بھی اشارہ نہ کرتا۔اے ل نزول المسیح صفحه ۶۷