حیات طیبہ

by Other Authors

Page 270 of 492

حیات طیبہ — Page 270

270 ہو گئے۔انہوں نے حضرت اقدس کی کتاب اعجاز مسیح “ کا جواب لکھنے کے لئے اعجاز مسیح اور نمس بازغہ“ مصنفہ حضرت مولوی محمد احسن صاحب امروہی کے حاشیوں پر نوٹ لکھے تھے اور حضرت اقدس کی بیان فرمودہ بعض صداقتوں کو جھٹلانے کے لئے لعنۃ اللہ علی الکاذبین لکھا تھا۔مگر ابھی اس لعنت بھیجنے پر ایک ہفتہ بھی نہیں گزرا تھا کہ وہ خود اس لعنتی موت کے نیچے آگئے۔اے پیر مہرعلی شاہ صاحب کو اپنے مرید کے ان نوٹوں کا جو اس نے اعجاز المسح “ کا جواب دینے کے لئے لکھے تھے علم تھا۔اس لئے انہوں نے اپنے کسی مرید کے ذریعے مذکورہ بالا دونوں کتابیں جن کے حاشیوں پر نوٹ لکھے ہوئے تھے۔منگوالیں اور انہیں جمع کر کے سیف چشتیائی کے نام سے ایک کتاب شائع کر دی۔مگر مولوی محمد حسن مرحوم کا اپنی اس کتاب میں ذکر تک نہ کیا۔پیر صاحب نے یہ کتاب حضرت اقدس کی خدمت میں بذریعہ رجسٹری بھیجی تھی۔حضرت اقدس اس کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔یہ کتاب (یعنی سیف چشتیائی۔ناقل ) مجھ کو یکم جولائی ۱۹۰۲ء کو بذریعہ ڈاک ملی ہے۔جس کو پیر مہر علی شاہ گولڑوی نے شاید اس غرض سے بھیجا ہے کہ تا وہ اس بات سے اطلاع دیں کہ انہوں نے میری کتاب اعجاز اسی اور نیز شمس بازغہ کا جواب لکھ دیا ہے اور اس کتاب کے پہنچنے سے پہلے ہی مجھ کو یہ بر پہنچ چکی تھی کہ اعجاز امسیح کے مقابل وہ ایک کتاب لکھ رہے ہیں لیکن افسوس کہ میرا خیال صحیح نہ نکلا۔جب اُن کی کتاب ”سیف چشتیائی مجھے ملی تو پہلے تو اس کتاب کو ہاتھ میں لے کر مجھے بڑی خوشی ہوئی کہ اب ہم اُن کی عربی تفسیر دیکھیں گے اور بمقابل اس کے ہماری تفسیر کی قدرو منزلت لوگوں پر اور بھی کھل جائے گی۔مگر جب کتاب کو دیکھا گیا اور اس کو اُردوزبان میں لکھا ہوا پایا۔اور تفسیر کا نام ونشان نہ تھا۔تب تو بے اختیار ان کی حالت پر رونا آیا۔‘سے اعجاز اسیح " پر پیر صاحب کی نکتہ چینیاں پیر صاحب نے بجائے اس کے کہ حضرت اقدس کے مقابل میں اپنی طرف سے فصیح و بلیغ عربی میں سورۃ فاتحہ کی تفسیر لکھتے۔اس قسم کے اعتراضات شروع کر دیئے کہ اس کتاب میں فلاں فلاں فقرہ مقامات حریری سے سرقہ کر کے درج کیا گیا ہے اور یہ کہ آپ کی وحی از قبیل اضغاث احلام اور حدیث النفس ہے“ حضرت اقدس نے اپنی کتاب ” نزول مسیح میں بڑی تفصیل کے ساتھ ان دونوں اعتراضوں کا جواب دیا ہے۔مختصر یہ کہ دو سو صفحہ کی کتاب میں اگر دو چار فقرے بطور توار دایسے بھی نکل آئیں جو کسی دوسری کتاب میں بھی درج ہوں تو اس میں کیا له نزول اسیح صفحه ۱۹۴ سے تفصیل کے لئے دیکھیں نزول مسیح