حیات طیبہ

by Other Authors

Page 261 of 492

حیات طیبہ — Page 261

261 حضرت اقدس سے آکر ملاقات کی۔شکایت کرنے والے بھی بلائے گئے ،مگر حضرت اقدس کے احسانوں کی وجہ سے ایک شخص بھی بر ملاطور پر یہ نہ کہہ سکا کہ فلاں موقعہ پر حضرت مرزا صاحب سے مجھے کوئی تکلیف پہنچی ہے ،مگر اس کے باوجود تحصیلدار نے اسلام دشمنی کی وجہ سے مخالفانہ رنگ میں رپورٹ کر دی۔اس کے جواب میں دوبارہ لکھا گیا کہ اس منارہ پر صرف اذان دی جائے گی اور اسے لوگوں کے لئے سیر گاہ نہیں بنایا جائے گا۔اس پر ڈ پٹی کمشنر نے تعمیر کی اجازت دیدی، لیکن حضرت اقدس کی زندگی میں اس کی تعمیر مکمل نہ ہوسکی۔البتہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایده اللہ بنصرہ کے عہد مبارک میں یہ کام پایہ تکمیل کو پہنچا۔الحمد للہ علی ذلک۔جہاد بالسیف کی ممانعت کا فتویٰ سے رجون ۱۹۰۰ ء چونکہ اس زمانہ میں دین کے لئے جہاد بالسیف کی شرائط موجود نہیں تھیں۔اس لئے حضرت اقدس نے ایک اُردو نظم میں مطابق احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم جہاد بالسیف کے التواء کا فتویٰ شائع فرمایا۔فتویٰ کے چند اشعار درج ذیل ہیں : اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال دیں کے لئے حرام ہے اب جنگ اور قتال کیوں بھولتے ہو تم يضع الحرب کی خبر کیا یہ نہیں بخاری میں دیکھو تو کھول کر کونین مصطفی عیسی مسیح جنگوں کا کردے گا التوالے فرما چکا سیکر چنانچہ ایک اور جگہ حضور نے صراحت سے لکھا ہے کہ لَا شَكَ أَنَّ وَجُوْدَ الْجِهَادِ مَعْدُوْمَةٌ فِي هَذَا الزَّمَنِ وَفِي هَذِهِ الْبِلَادِ یعنی اس میں کوئی شک نہیں کہ اس زمانہ اور اس ملک میں جہاد کے شرائط معدوم ہیں۔“ حضرت اقدس کے اس فتویٰ کو چونکہ بعض لوگوں نے غلط طور پر پیش کر کے بہت شور مچایا۔کہ جہاد ہمیشہ کے لئے حرام قرار دیدیا ہے۔اس لئے حضور اور حضور کے خدام کو بہت تفصیل سے بار بار جواب دینا پڑا۔پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی کو بالمقابل تفسیر نویسی کا چیلنج۔۲۰ / جولائی ۱۹۰۰ ء گولڑہ ، راولپنڈی سے چند میل کے فاصلہ پر ایک بستی ہے جہاں ایک سجادہ نشین پیر مہرعلی شاہ صاحب ل از اشتہارے جون ۹۰۰اء سے تحفہ گولڑویہ صفحہ ۴۳