حیات طیبہ — Page 254
254 جائے گا اور کہتے تھے کہ آج سے ہمارے لئے ہر ایک قسم کی ایذا کا موقع ہاتھ آجائے گا۔وہی دن تھا جس میں پیشگوئی کے اس بیان کے معنے کھلنے تھے کہ وہ ایک امر مخفی ہے جس سے مقدمہ پلٹا کھائے گا اور آخر میں وہ ظاہر کیا جائے گا سو ایسا اتفاق ہوا کہ اس دن ہمارے وکیل خواجہ کمال الدین صاحب کو خیال آیا کہ پرانی مسل کا انڈکس دیکھنا چاہئے یعنی ضمیمہ جس میں ضروری احکام کا خلاصہ ہوتا ہے۔جب وہ دیکھا گیا۔تو اس میں وہ بات نکلی جس کے نکلنے کی توقع نہ تھی۔یعنی حاکم کا تصدیق شدہ یہ حکم نکلا کہ اس زمین پر قابض نہ صرف امام الدین ہے بلکہ مرزا غلام مرتضیٰ یعنی میرے والد صاحب بھی قابض ہیں تب یہ دیکھنے سے میرے وکیل نے سمجھ لیا کہ ہمارا مقدمہ فتح ہو گیا۔حاکم کے پاس یہ بیان کیا گیا۔اس نے فی الفور وہ انڈکس طلب کیا اور چونکہ دیکھتے ہی اس پر حقیقت کھل گئی۔اس لئے اس نے بلا توقف امام الدین پر ڈگری زمین کی معہ خرچہ کردی۔اے مدرسہ تعلیم الاسلام مڈل سے ترقی کر کے ہائی بن گیا۔یکم فروری ۱۹۰۰ ء یکم فروری ۱۹۰۰ء کو مدرسہ تعلیم الاسلام جس میں پہلے مڈل تک تعلیم دی جاتی تھی۔اب ہائی سکول بنادیا گیا۔پھر مارچ ۱۹۰۰ ء میں یہ تجویز بھی کی گئی کہ اس مدرسہ میں ایک شاخ دینیات کی بھی کھولی جائے۔خطبہ الہامیہ بموقعہ عید الامی ۱۱ را پریل ۱۹۰۰ ء مطابق کا ساتھ عرفہ کے روز صبح سویرے حضرت اقدس نے مولانا حکیم حاجی نورالدین صاحب کو ایک رقعہ کے ذریعہ اطلاع دی کہ میں آج کا دن اور رات کا کچھ حصہ دُعا میں گزارنا چاہتا ہوں۔موجود الوقت دوستوں کے نام اور پتے مجھے لکھ کر بھیج دیں تا دعا کے وقت وہ مجھے یادر ہیں۔حضور کے اُس حکم کی تعمیل کی گئی اور ایک بڑی فہرست احباب کے ناموں اور پتوں کی حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں پہنچادی گئی۔دوسرے دن عید تھی۔حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی صبح کے وقت حضور کی خدمت میں حاضر ہو گئے اور عرض کی کہ ”میں آج خصوصیت سے عرض کرنے آیا ہوں کہ حضور تقریر ضرور کریں خواہ چند فقرے ہی ہوں۔آپ نے فرمایا کہ ”خدا نے بھی یہی حکم دیا ہے آج صبح کے وقت الہام ہوا ہے کہ ” مجمع میں عربی میں تقریر کر وہ تمہیں قوت دی گئی میں کوئی اور مجمع سمجھتا تھا۔شاید یہی مجمع ہو۔اور نیز الہام ہوا ہے۔كَلَامُ أَفْصِحَتْ مِنْ لَّدُنْ رَّبٍ كَرِيمٍ - لے حقیقة الوحی صفحه ۲۶۹ تا ۲۷۲