حیات طیبہ

by Other Authors

Page 251 of 492

حیات طیبہ — Page 251

251 مرزا صاحب موصوف کے ساتھ نرمی سے کلام کریں مگر اس ماحول کا تو باوا آدم ہی نرالا تھا۔وفد کی معروضات سُن کر مرزا امام الدین صاحب آگ بگولا ہو گئے اور کہا کہ وہ ( یعنی حضرت اقدس ) خود کیوں نہیں آئے؟ پھر حضور نے ایک وفد ڈ پٹی کمشنر کی خدمت میں بھیجا۔ڈپٹی کمشنر اور کپتان پولیس ساتھ کے ایک گاؤں میں کسی واردات کی تفتیش کے لئے آئے ہوئے تھے۔ڈپٹی کمشنر کے سامنے جب وفد پیش ہوا تو وہ بھی سخت تر شروئی سے پیش آئے اور کہا کہ تم بہت سے آدمی جمع ہو کر مجھ پر رعب ڈالنا چاہتے ہو۔میں تم لوگوں کو خوب جانتا ہوں اور میں خوب سمجھتا ہوں کہ یہ جماعت کیوں بن رہی ہے اور میں تمہاری باتوں سے ناواقف نہیں اور میں بہت جلد تمہاری خبر لینے والا ہوں اور تم کو پتہ لگ جائے گا کہ ایسی جماعت کس طرح بنایا کرتے ہیں۔وغیرہ وغیرہ۔غرض وفد بے نیل مرام واپس آ گیا۔جب حضرت اقدس نے سارا واقعہ سنا تو سخت تکلیف محسوس کی۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اور بعض دوسرے معاندین آپ کے خلاف حکومت کو سخت بدظن کر چکے تھے۔حکومت کی اس روش کو دیکھ کر مرزا امام الدین اور نظام الدین نے بھی اپنی مخالفانہ کاروائیاں تیز کر دی تھیں۔پولیس تو مخالف تھی ہی۔ناچار آپ نے احباب کو جمع کر کے مشورہ کیا کہ ہجرت سنتِ انبیاء میں سے ہے کیوں نہ ہم بھی یہاں سے ہجرت کر کے کسی ایسی جگہ چلے جائیں۔جہاں ہم اپنا کام زیادہ سہولت کے ساتھ کر سکیں۔حضرت حکیم مولانا حافظ نورالدین صاحب نے بھیرہ تشریف لے جانے کا مشورہ دیا۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے سیالکوٹ جانے کی دعوت دی۔محترم شیخ رحمت اللہ صاحب نے لاہور تشریف لے جانے کے لئے عرض کی۔محترم چوہدری حاکم علی صاحب کی روایت ہے کہ میں نے اپنے گاؤں پنیار جانے کے لئے عرض کی۔حضور نے سب کی باتیں سُن کر فرمایا کہ اچھا وقت آئے گا تو دیکھا جائے گا۔جہاں اللہ لے جائے گا۔وہیں جائیں گے۔جب حضور نے دیکھا کہ نہ مرزا امام الدین مانتا ہے۔نہ ڈپٹی کمشنر سنتا ہے۔اب سوائے اس کے کوئی چارہ نہیں کہ دیوانی عدالت میں دعوی کر دیا جائے۔چنانچہ دوستوں کے مشورہ سے آپ نے مرزا امام الدین کے خلاف شیخ خدا بخش صاحب ڈسٹرکٹ بج گورداسپور کی عدالت میں دیوانی مقدمہ دائر کر دیا۔اس مقدمہ کے دوران میں ایک مرتبہ آپ کو گورداسپور بھی تشریف لے جانا پڑا۔وہاں آپ کو کثرت کار کی وجہ سے کسی قدر بخار ہو گیا اور پیچیش بھی ہو گئی۔رات کو آپ نے احباب کو سو جانے کی ہدایت فرمائی۔چنانچہ حضور کے اس ارشاد کی تعمیل میں احباب سو گئے۔حضرت اقدس کو چونکہ تکلیف تھی۔اس لئے حضور کے ایک جان نثار صحابی حضرت منشی عبدالعزیز صاحب اوجلوی اور دوتین اور دوست رات بھر جاگتے رہے اور جو نہی حضرت رفع حاجت کے لئے اُٹھتے۔حضرت منشی صاحب فور الوٹا اه از روایت چوہدری حاکم علی صاحب مندرجہ سیرۃ المہدی حصہ اوّل روایت نمبر ۱۳۵ صفحه ۱۳۸ تا ۱۴۰