حیات طیبہ — Page 247
247 ”ہماری عالی گورنمنٹ ایک مذہبی جلسہ کا اعلان کر کے اس زیر تجویز جلسہ کی ایسی تاریخ مقرر کرے۔جو دو سال سے زیادہ نہ ہو اور تمام قوموں کے سرکردہ علماء اور فقراء اور ملہموں کو اس غرض سے بلایا جائے کہ وہ جلسہ کی تاریخ پر حاضر ہو کر اپنے مذہب کی سچائی کے دو ثبوت دیں۔اوّل۔ایسی تعلیم پیش کریں۔جو دوسری تعلیموں سے اعلیٰ ہو۔جو انسانی درخت کی تمام شاخوں کی آبپاشی کر سکتی ہو۔(۲) دوسرے یہ ثبوت دیں کہ ان کے مذہب میں روحانیت اور طاقت بالا ویسی ہی موجود ہے۔جیسا کہ ابتداء میں دعویٰ کیا گیا تھا اور وہ اعلان جو جلسہ سے پہلے شائع کیا جائے اس میں یہ تصریح یہ ہدایت ہو کہ قوموں کے سر گروہ ان دونبوتوں کے لئے تیار ہوکر جلسہ کے میدان میں قدم رکھیں اور تعلیم کی خوبیاں بیان کرنے کے بعد ایسی اعلی پیشگوئیاں پیش کریں۔جو محض خدا کے علم سے مخصوص ہوں اور نیز ایک سال کے اندر پوری بھی ہو جائیں۔“ پھر فرماتے ہیں: اور سچا مذ ہب وہی ہے جس کے ساتھ زندہ نمونہ ہے۔کیا کوئی دل اور کوئی کانشنس اس بات کو قبول کر سکتا ہے کہ ایک مذہب تو سچا ہے۔مگر اس کی سچائی کی چمکیں اور سچائی کے نشان آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گئے ہیں اور ہدایتوں کے بھیجنے والے پر ہمیشہ کے لئے مہر لگ گئی ہے۔میں جانتا ہوں کہ ہر ایک انسان جو سچی بھوک اور پیاس خدا تعالیٰ کی طلب میں رکھتا ہے وہ ایسا خیال ہرگز نہیں کرے گا۔اس کے لئے ضروری ہے کہ بچے مذہب کی یہی نشانی ہو کہ زندہ خدا کے زندہ نمونے اور اس کے نشانوں کے چمکتے ہوئے نور اس مذہب میں تازہ بتازہ موجود ہوں۔اگر ہماری گورنمنٹ ایسا جلسہ کرے تو یہ نہایت مبارک ارادہ ہے اور اس سے ثابت ہوگا کہ یہ گورنمنٹ سچائی کی حامی ہے اور اگر ایسا جلسہ ہو تو ہر شخص اپنے اختیار سے اور جنسی خوشی اس جلسہ میں داخل ہو سکتا ہے۔قوموں کے پیشوا جنہوں نے مقدس کہلا کر کروڑ ہا روپیہ قوموں کا کھالیا ہے۔ان کے تقدس کو آزمانے کے لئے اس سے بڑھ کر اور کوئی عمدہ طریق نہیں کہ جو اُن کا یا اُن کے مذہب کا خدا کے ساتھ رشتہ ہے اس رشتہ کا زندہ ثبوت مانگا جائے۔“ تصيين حضرت اقدس کو جب یہ علم ہو گیا کہ حضرت مسیح ناصری واقعہ صلیب کے بعد کشمیر میں آگئے تھے اور ایک سو ہیں سال کی لمبی عمر پا کر یہاں ہی ان کا وصال ہوا تھا۔تو آپ نے یہ کوشش کی کہ اس ضمن میں نئے سے نئے ثبوت