حیات طیبہ — Page 246
اور پھر اسی کی طرف جاؤں گا۔“ 246 اس الہام کی تاویل آپ نے اپنے اجتہاد سے یہ کی کہ ی لڑکا بڑا نیک ہوگا اور خدا کی طرف اس کی حرکت ہوگی اور یا یہ کہ جلد فوت ہو جائے گا۔چنانچہ تاویل کے پچھلے حصے کے مطابق ۱۶ ستمبر ۱۹۰۷ ء کو حضرت اقدس کی زندگی میں ہی صاحبزادہ مبارک احمد وفات پاگئے فَإِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔چھوٹا بچہ ہونے کی وجہ سے حضرت اقدس کو ان سے بہت محبت تھی۔چنانچہ جب یہ بیمار ہوئے تو حضور نے اُن کے علاج کے لئے دن رات ایک کر دیا لیکن جب فوت ہو گئے تو آپ نے وہ صبر اور رضا کا نمونہ دکھا یا کہ لوگ حیران رہ گئے۔مبارک احمد کی قبر کے کتبہ کے لئے آپ نے چند شعر بھی تحریر فرمائے۔جن سے آپ کے جذبات قلب کا صحیح صحیح نقشہ آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے۔ان اشعار میں سے دوشعر درج ذیل ہیں: جگر کا ٹکڑا مبارک احمد جو پاک شکل اور پاک خُو تھا وہ آج ہم سے جدا ہوا ہے ہمارے دل کو حزیں بنا کر برس تھے آٹھ اور کچھ مہینے کہ جب خدا نے اُسے بلایا بلانے والا ہے سب سے پیارا اُسی پر اے دل تو جاں فیدا کر کے ایک میموریل کے ذریعہ گورنمنٹ کی خدمت میں ایک عالمی مذہبی جلسہ کرنے کی درخواست ۲۷ ستمبر ۱۸۹۹ء ۲۷ ستمبر ۹۹ کو آپ نے گورنمنٹ کی خدمت میں ایک میموریل کے ذریعہ درخواست کی۔کہ آج کل جبکہ سارے مذاہب کے پیروکار اپنے اپنے غلبہ کے لیے ایک دوسرے سے دست وگریبان نظر آتے ہیں۔گورنمنٹ کو چاہئے کہ دنیا میں بچے مذہب کی تحقیق کے لئے ایک ایسا جلسہ منعقد کروائے۔جس میں ساری قوموں کے مذہبی پیشوا اپنی اپنی کتابوں کی اعلیٰ تعلیمات کو پیش کریں اور پھر اپنی اپنی روحانی طاقت سے ایسے ثبوت مہیا کریں جن سے یہ ثابت ہو جائے کہ ان کے مذہب کو اختیار کرنے سے انسان اعلیٰ درجہ کے روحانی کمالات حاصل کر سکتا ہے۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں : تریاق القلوب صفحہ ۴۰ سے مکمل نظم اپنے موقع پر آئندہ درج کی جائے گی انشاء اللہ تعالیٰ (مؤلف)