حیات طیبہ — Page 220
220 نے ایک جھوٹے مقدمہ میں پادری کی طرف سے دی۔اس کے بعد مولوی صاحب باہر عدالت کے میدان میں آئے اور ایک شخص کی چادر لے کر زمین پر بچھائی اور اس پر بیٹھ گئے۔جن صاحب کی وہ چادر تھی انہوں نے یہ کہہ کر مولوی صاحب کے نیچے سے کھینچ لی کہ مسلمان ہو کر اور سرغنہ کہلا کر ایسی دروغ گوئی۔آریہ وکیل پنڈت رام بھجدت کی وکالت ہم اوپر ذکر کر چکے ہیں کہ اس مقدمہ میں لیکھرام کے قتل کی وجہ سے آریوں نے بھی عیسائیوں کو مدد دی۔چنانچہ اس کیس میں عیسائیوں کی طرف سے پنڈت رام بھجدت صاحب آریہ وکیل نے بھی پیروی کی۔جب اُن سے پوچھا گیا کہ آپ کیسے آئے تو انہوں نے صاف کہا کہ ”میں نے تو کوئی فیس نہیں لی۔صرف اس لئے شریک ہو گیا ہوں کہ شاید پنڈت لیکھرام کے قتل کا بھی کوئی سراغ مل جائے۔سے کپتان ڈگلس کے قلب پر تصرف الہی کپتان ڈگلس ڈپٹی کمشنر کے ریڈ رراجہ غلام حیدر صاحب مرحوم کا بیان ہے کہ جب بٹالہ میں تیرہ اگست کو مقدمہ کی کارروائی ختم ہوئی اور ہم گورداسپور جانے کے لئے بٹالہ کے اسٹیشن پر پہنچے تو گاڑی کچھ لیٹ تھی۔صاحب ڈپٹی کمشنر بہا در پلیٹ فارم کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک بے تابانہ ٹہل رہے تھے۔میں نے ان کی یہ حالت دیکھ کر جرات کر کے پوچھا کہ اس وقت آپ بہت متشکر معلوم ہوتے ہیں۔بات کیا ہے؟ صاحب بہادر نے جواب دیا کہ ” ہم اس مقدمہ سے بہت سرگردان ہیں ہم جس طرف نگاہ کرتے ہیں ہم کو مرزا صاحب نظر آتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ انصاف جو تمہاری قوم کا خاصہ ہے اس کو ہاتھ سے نہ چھوڑ نا علاوہ ازیں ہمیں اس استغاثہ میں عداوت اور خصومت کے آثار بھی معلوم ہوتے ہیں۔ہم نہیں سمجھ سکتے کہ کیا طریق اختیار کیا جائے۔جس سے اصل حقیقت منکشف ہو جائے میں نے مشور تا عرض کیا کہ اگر آپ عبد الحمید کو عیسائیوں کے قبضہ سے الگ کر کے پولیس کے قبضہ میں دے دیں۔تو اصلیت گھل سکتی ہے۔صاحب بہادر فور ریلوے آفس میں گئے سپر نٹنڈنٹ پولیس کے نام کچھ ہدایات لکھیں۔پھر ہم گورداسپور چلے گئے۔چند دن بعد یعنی ہیں تاریخ کی صبح کو مجھے اردلی بلانے آیا۔میں گیا تو معلوم ہوا کہ مسٹر لی مار چنڈ کپتان پولیس عبدالحمید کا مفصل بیان لکھ کر لائے ہیں اور ڈپٹی کمشنر صاحب نے اس کی تصدیق کرنی ہے۔کپتان پولیس کے سامنے پہلے تو عبدالحمید نے وہی جھوٹی کہانی بیان کی تھی جسے وہ پہلے بیان کر چکا تھا لیکن جب کپتان صاحب نے اسے کہا کہ ا ان سارے حالات کے لئے دیکھئے کتاب البریہ سے حیات احمد جلد چہارم صفحه ۶۰۲