حیات طیبہ

by Other Authors

Page 215 of 492

حیات طیبہ — Page 215

215 مشائخ اور صلحاء سے اللہ جل شانہ کی قسم دیکر ایک درخواست ۱۵؍ جولائی ۱۸۹۷ء حضرت اقدس نے ۱۵ جولائی ۱۸۹۷ء کو مشائخ اور صلحاء اور اہل اللہ پر اتمام حجت کے لئے ایک اور تجویز پیش فرمائی اور وہ یہ کہ میں تمام مشائخ اور فقراء اور صلحاء پنجاب اور ہندوستان کو اللہ جل شانہ کی قسم دیتا ہوں جس کے نام پر گردن رکھ دینا بچے دینداروں کا کام ہے کہ وہ میرے بارے میں جناب الہی سے کم سے کم اکیس روز توجہ کریں یعنی اس صورت میں کہ اکیس روز سے پہلے کچھ معلوم نہ ہو سکے اور خدا سے انکشاف اس حقیقت کا چاہیں کہ میں کون ہوں؟ آیا کذاب ہوں یا من جانب اللہ۔میں بار بار بزرگان دین کی خدمت میں اللہ جل شانہ کی قسم دے کر یہ سوال کرتا ہوں کہ ضرور اکیس روز تک اگر اس سے پہلے معلوم نہ ہو سکے اس تفرقہ کے دُور کرنے کے لئے دعا اور توجہ کریں۔میں یقیناً جانتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی قسم سن کر پھر التفات نہ کر نار استبازوں کا کام نہیں اور میں جانتا ہوں کہ اس قسم کوشن کر ہر ایک پاک دل اور خدا تعالیٰ کی عظمت سے ڈرنے والا ضرور توجہ کرے گا۔پھر ایسی الہامی شہادتوں کے جمع ہونے کے بعد جس طرف کثرت ہوگی وہ امر منجانب اللہ سمجھا جاوے گا۔“ اس تجویز سے انشاء اللہ بندگان خدا کو بہت فائدہ ہوگا اور مسلمانوں کے دل کثرت شواہد سے ایک طرف تسلی پا کر فتنہ سے نجات پا جائیں گے اور آثار نبویہ میں بھی اسی طرح معلوم ہوتا ہے کہ اوّل مهدی آخر الزمان کی تکفیر کی جائے گی اور لوگ اس سے دشمنی کریں گے اور نہایت درجہ کی بدگوئی سے پیش آئیں گے اور آخر خدا تعالیٰ کے نیک بندوں کو اس کی سچائی کی نسبت بذریعہ رویاء و الہام وغیرہ اطلاع دی جائے گی اور دوسرے آسمانی نشان بھی ظاہر ہوں گے تب علماء وقت طوعا و کرھا اس کو قبول کرلیں گے۔سواے عزیز و اور بزرگو! خدائے عالم الغیب کی طرف توجہ کرو۔آپ لوگوں کو اللہ جل شانہ کی قسم ہے کہ میرے اس سوال کو مان لو اس قدیر ذوالجلال کی تمہیں سوگند ہے کہ اس عاجز کی یہ درخواست ردمت کرو۔“ ( از اشتہار ۱۵ جولائی ۱۸۹۷ء) مسجد مبارک کی توسیع مسجد مبارک بہت چھوٹی سی تھی اور اس کی ایک صف میں بمشکل چھ آدمی کھڑے ہو سکتے تھے اور پوری جگہ میں زیادہ سے زیادہ تھیں بنتیں۔نمازیوں کے زیادہ ہونے کی وجہ سے کبھی ” بیت الفکر سے بھی مسجد کا کام لیا جاتا