حیات طیبہ — Page 214
214 امیر عبدالرحمان خاں تک پہنچ ہی نہیں سکا اور مولویوں کے فتویٰ کے ماتحت حضرت اقدس کے قاصد عبدالرحمان خاں شہید کر دیئے گئے۔فاناللہ وانا الیہ راجعون۔محمود کی آمین۔۷ رجون ۱۸۹۷ء چونکہ حضرت اقدس کو قرآن کریم کے ساتھ بہت بڑا عشق تھا اور آپ اس کی تعلیم اور اشاعت کے بہت بڑے شائق تھے۔اس لئے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد ( امام جماعت احمد یہ متعنا اللہ بطول حیاتہ ) نے جب ناظرہ قرآن شریف ختم کر لیا۔تو حضرت اقدس کو بہت مسرت ہوئی اور آپ نے اس پر ایک مجلس منعقد کرنی چاہی باہر کے خدام کو بھی اس میں شریک ہونے کی دعوت دی اور اس تقریب کے لئے ایک نظم بھی تصنیف فرمائی جو محمود کی آمین“ کے نام سے مشہور اور اردو کی درثمین میں شامل ہے۔اس نظم کے بطور نمونہ چار شعر درج ذیل ہیں۔یارب ہے تیرا احساں میں تیرے در پہ قرباں تو نے دیا ہے ایماں تو ہر زماں نگہباں تیرا کرم ہے ہر آں تو ہے رحیم و رحماں روز کر مبارک سُبحَانَ مَنْ تَرَانِي نے دن دکھایا محمود پڑھ کے آیا دل دیکھ کر یہ احسان تیری شنائیں گایا صد شکر ہے خدایا صد شکر ہے خدایا روز کر مبارک سُبحَانَ مَن يراني ملکہ وکٹوریہ کی ساٹھ سالہ جو بلی کی تقریب۔۱۹ جون ۱۸۹۷ء ۱۹ جون ۱۸۹۷ ء کو ملکہ معظمہ وکٹوریہ کی انگلستان اور ہندوستان میں شصت سالہ جو بلی منائی گئی۔حضرت اقدس نے اس موقعہ پر ایک رسالہ بنام تحفہ قیصریہ تصنیف فرمایا۔جس میں حضرت مسیح کو خدا تعالیٰ کا ایک بندہ اور صادق رسول ہونا ظاہر فرمایا اور موجودہ مذہب عیسوی کا غلط اور اسلام کا صحیح مذہب ہونا واضح کیا اور ملکہ معظمہ کو اسلام کی دعوت دی اور یہ کتاب کافی تعداد میں مفت تقسیم کی گئی اور ملکہ معظمہ، وائسرائے ہندا اورلفٹنٹ گورنر پنجاب کو بھی بھیجی گئی۔