حیات طیبہ

by Other Authors

Page 166 of 492

حیات طیبہ — Page 166

166 نورالدین (صاحب) کے متعلق الہام ہوا ہے اور وہ شعر حریری میں موجود ہے لَا تَصْبُونَ إِلَى الْوَطَنْ فِيْهِ تُهَانُ وَتُمْتَحَنُ خدا تعالیٰ کے بھی عجیب تصرفات ہوتے ہیں میرے واہمہ اور خواب میں بھی پھر مجھے وطن کا خیال نہ آیا۔“ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ میں آپ کا مقام بہت بلند تھا۔آپ نے جس رنگ میں حضرت اقدس کا سلسلہ کے کاموں میں ہاتھ بٹایا ہے۔اس کی نظیر اور کسی شخص میں نہیں ملتی۔درس قرآن آپ کا محبوب شغل تھا۔احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کو عشق تھا۔طب میں بھی ید طولیٰ رکھتے تھے۔غرض روحانی اور جسمانی دونوں لحاظ سے آپ مخلوق خدا کی خدمت کرنے میں ہمہ تن مصروف رہتے تھے۔حضرت اقدس نے اپنی کتب میں آپ کی بہت ہی تعریف فرمائی ہے۔چنانچہ آپ کے وصف میں حضرت اقدس کا یہ شعر تو دریا بہ کوزہ کا مصداق ہے۔تصنیفات ۱۸۹۳ء چه خوش بودے اگر ہر یک زامت نوردین بودے ہمیں بودے اگر ہر دل پر از نور یقین بودے آئینہ کمالات اسلام : اس کتاب کے مضامین کے متعلق او پر کافی ذکر آچکا ہے۔برکات الدعا: حضرت اقدس نے یہ رسالہ سرسید مرحوم کو مخاطب کر کے لکھا تھا۔اس کا ذکر بھی اوپر آچکا ہے۔حجة الاسلام: حضرت اقدس نے اس رسالہ میں ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک اور دوسرے عیسائیوں کو اس امر کی دعوت دی ہے کہ اس زمانہ میں زندہ مذہب صرف اسلام ہے۔اس مباحثہ کی وجوہ اور شرائط کا بھی اس میں ذکر ہے جو حضرت اقدس کا عیسائیوں سے بمقام امرتسر ہوا۔اور جنگ مقدس کے نام سے مشہور ہے۔سچائی کا اظہار : حضرت اقدس کا پادریوں سے جو مباحثہ ہونا قرار پایا تھا۔اسے پادری صاحبان منظور کر کے بہت پچھتائے اور اس کوشش میں لگ گئے کہ کسی طرح یہ مباحثہ حضرت اقدس کی بجائے علماء حضرات سے کیا جائے۔چنانچہ انہوں نے مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے تیار کردہ فتویٰ تکفیر کی خوب اشاعت کی اور جنڈیالہ کے مسلمانوں کو جن کی وجہ سے اس _ لے ترجمہ یعنی اپنے وطن کی طرف ہر گز رخ نہ کرنا ورنہ تمہاری اہانت ہو گی اور تمہیں تکلیفیں اُٹھانا پڑیں گی۔سے حیات نورالدین