حیات طیبہ

by Other Authors

Page 165 of 492

حیات طیبہ — Page 165

165 میں ہزار ہاروپیہ کے انعامات کے ساتھ شائع کیں۔مگر کسی کو بھی مقابلہ کی جرأت نہ ہوسکی۔جیسا کہ حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔آزمائش کے لئے کوئی نہ آیا ہر چند ہر مخالف کو مقابل پہ بلا یا ہم نے حضرت حاجی الحرمین مولانا حکیم نورالدین صاحب کی ہجرت ۱۸۹۳ء کا ایک خاص واقعہ حضرت حاجی الحرمین مولانا حکیم نورالدین صاحب کی ہجرت ہے۔آپ مہاراجہ جموں و کشمیر کے شاہی طبیب تھے۔حضرت اقدس نے جب مسیحیت و مہدویت کا دعویٰ کیا تو حضرت مولوی صاحب نے حضرت اقدس کی خدمت میں لکھا کہ حضور! میرا دل بڑا چاہتا ہے کہ حضور کی خدمت میں اپنی باقی زندگی گزار دوں۔اگر اجازت ہو تو میں ملازمت سے استعفاء دے کر قادیان آبیٹھوں۔حضرت اقدس نے لکھا کہ لگی ہوئی ملازمت کو چھوڑ نا گفران نعمت ہے۔آپ استعفاء نہ دیں۔کچھ عرصہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب پیدا کر دیئے کہ حضرت مولوی صاحب کو ملازمت سے علیحدہ ہونا پڑا اور آپ اپنے وطن بھیرہ میں واپس تشریف لے آئے اور وہاں ایک نئے مکان کی تعمیر شروع کر دی۔ابھی وہ مکان زیر تعمیر ہی تھا اور اس پر سات ہزار کے قریب روپیہ خرچ ہو چکا تھا۔کہ حضرت مولوی صاحب کسی ضرورت کے لئے لاہور تشریف لائے۔وہاں خیال پیدا ہوا کہ قادیان نزدیک ہے۔حضرت اقدس سے بھی ملتے جائیں۔چنانچہ آپ خود فرماتے ہیں: ”میرا جی چاہا کہ حضرت صاحب کو بھی دیکھوں اس واسطے میں قادیان آیا۔چونکہ بھیرہ میں بڑے پیمانہ پر عمارت کا کام شروع تھا۔اس لئے میں نے واپسی کا یکہ کرایہ کیا تھا۔یہاں آکر حضرت صاحب سے ملا اور ارادہ کیا کہ آپ سے ابھی اجازت لے کر رخصت ہوں۔آپ نے اثنائے گفتگو میں مجھ سے فرمایا کہ اب تو آپ فارغ ہو گئے ہیں میں نے کہا۔جی ہاں۔اب تو میں فارغ ہی ہوں۔یکہ والے سے میں نے کہ دیا کہ اب تم چلے جاؤ۔آج اجازت لینا مناسب نہیں ہے۔کل پرسوں اجازت لیں گے۔اگلے روز آپ نے فرمایا کہ آپ کو اکیلے رہنے میں تو تکلیف ہوگی۔آپ اپنی ایک بیوی کو بلوالیں۔میں نے حسب الارشاد بیوی کے بلانے کے لئے خط لکھ دیا اور یہ بھی لکھ دیا کہ ابھی میں شاید جلد نہ آسکوں اس لئے عمارت کا کام بند کر دیں۔جب میری بیوی آگئی۔تو آپ نے فرمایا کہ آپ کو کتابوں کا بڑا شوق ہے لہذا میں مناسب سمجھتا ہوں کہ آپ اپنا کتب خانہ منگوا لیں۔تھوڑے دنوں کے بعد فرمایا کہ دوسری بیوی آپ کی مزاج شناس اور پرانی ہے۔آپ اس کو ضرور بلالیں اور مولوی عبد الکریم صاحب سے فرمایا کہ مجھ کو (مولوی)