حیات طیبہ — Page 164
164 ایسے مجرم کو بے سزا نہیں چھوڑے گا۔جس نے حق کا اخفا کر کے دنیا کو دھوکا دینا چاہا۔۔۔اور وہ دن نزدیک ہیں دُور نہیں۔اگر آتھم کو عیسائی لوگ ٹکڑے ٹکڑے بھی کر دیں اور ذبح بھی کر ڈالیں تب بھی وہ قسم نہیں کھائیں گے۔‘ 1 چنانچہ آتھم نے کسی طرح قسم پر آمادگی ظاہر نہیں کی اور اس آخری اشتہار سے چھ ماہ کے اندر ۲۷ جولائی ۱۹۶ء کو فیروز پور کے مقام پر فوت ہو گئے۔۲۔آتھم کی موت کے بعد حضرت اقدس نے اپنے تمام مخالفین کو مخاطب کر کے لکھا کہ اگر کسی صاحب کا یہ خیال ہو کہ آتھم پیشگوئی کی عظمت سے نہیں ڈرا۔بلکہ ہم نے اس کے قتل کرنے کے لئے کبھی تلواروں والے آدمی بھیجے۔کبھی ان کے پیچھے سانپ چھوڑے۔کبھی گئے سیدھا کر پیچھے لگا دیئے۔وغیرہ وغیرہ۔تو ایسا شخص اس مضمون کی قسم کھالے پھر اگر وہ ایک سال تک بچ جائے تو میں اپنی پیشگوئی کے غلط نکلنے کا آپ اقرار کرلوں گا اور اس قسم کے ساتھ کوئی شرط بھی نہیں ہوگی۔‘سے مگر کوئی شخص مرد میدان بن کر سامنے نہیں آیا نہ عیسائیوں میں سے اور نہ ہی معاند اور مکفر مولویوں میں سے اور اس طرح ایک رنگ میں سب دشمنوں پر آپ نے حجت پوری کر دی۔ایک رات میں عربی زبان کا چالیس ہزار مادہ آپ کو سکھا دیا گیا مباحثہ اور مباہلہ سے فارغ ہو کر جب حضرت اقدس قادیان میں واپس تشریف لائے تو حسب سابق پھر تالیف و تصنیف اور اشاعت دین میں مصروف ہو گئے۔عربی زبان میں تفسیر نویسی اور حقائق و معارف بیان کرنے کا چیلنج تو آپ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اور دوسرے علماء کو دے ہی چکے تھے جیسا کہ اشتہار ” آسمانی فیصلہ سے ظاہر ہے اور یہ بھی ہم لکھ چکے ہیں کہ جب یہ اشتہار مولوی محمد حسین صاحب نے پڑھا تو حضرت اقدس کو نعوذ باللہ من ذلک جاہل اور علومِ عربیہ سے بے بہرہ اور اپنے آپ کو عالم فاضل اور یگانہ روزگار قرار دیا۔اللہ تعالیٰ کی غیرت بھلا یہ کب گوارا کر سکتی تھی اس نے مسیح پاک کے دل میں دعا کی تحریک کی۔حضور نے جب دُعافرمائی تو اللہ تعالیٰ نے ایک ہی رات میں آپ کو عربی زبان کے چالیس ہزار مادے سکھا دیئے۔جس پر آپ نے عرب و عجم پر حجت قائم کرنے اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اور ان کے ہم خیال مولویوں کے کبر کو توڑنے کے لئے متعدد کتابیں عربی زبان دیکھیں’انوار لے اشتہار انعامی چار ہزار روپیہ صفحہ 11 سے تفصیل کے لئے دیکھیں انوار الاسلام انجام آنھم اور کتاب البریہ ۱۱ آپ کی عربی کتابوں کی تعداد چوبیس کے قریب ہے۔سے انجام آتھم صفحہ ۱۵