حیات طیبہ

by Other Authors

Page 100 of 492

حیات طیبہ — Page 100

100 مرزا غلام احمد صاحب رئیس قادیان سلامت۔چٹھی آپ کی مورخہ دیروزہ موصول ملاحظہ وسماعت ہو کر بجوابش تحریر ہے کہ آپ کو بمتابعت وملحوظیت قانون سرکاری لدھیانہ میں ٹھہرنے کے لئے وہی حقوق حاصل ہیں جیسے دیگر رعا یا تابع قانون سر کا رانگریزی کو حاصل ہیں۔المرقوم ۶ /اگست ۱۸۹۱ء دستخط ڈپٹی کمشنر صاحب بہادر اے مولوی نظام الدین صاحب کی بیعت مباحثہ کے دوسرے روز ایک عجیب واقعہ پیش آیا مولوی نظام الدین صاحب ایک عاشق قرآن مولوی تھے وہ دو چار اور اشخاص کی معیت میں مولوی محمد حسن کے مکان پر مقیم تھے۔مولوی نظام الدین صاحب نے مولوی محمد حسین صاحب سے کہا کہ کیا قرآن مجید میں حضرت عیسی علیہ السلام کی حیات پر مشتمل آیات موجود ہیں؟ مولوی صاحب نے فرمایا۔ہاں! ہیں آیتیں قرآن مجید میں موجود ہیں مولوی صاحب کا یہ جواب سن کر مولوی نظام الدین صاحب حضرت اقدس کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ مرزا صاحب آپ کے پاس وفات مسیح کا کیا ثبوت ہے؟ فرمایا۔قرآن ہمارے ساتھ ہے۔مولوی صاحب نے عرض کی کہ اگر قرآن مجید سے میں حیات مسیح کہ بین آیات نکال کر دکھا دوں تو ! فرمایا۔مولوی صاحب۔آپ ایک ہی آیت لے آئیں میرے لئے کافی ہے۔مولوی نظام الدین صاحب کہنے لگے۔دیکھنا! پکے رہنا۔میں بین آیات لائے دیتا ہوں۔یہ کہہ کر مولوی صاحب مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے پاس گئے اور کہنے لگے کہ مولوی صاحب۔میں مرزا صاحب کو منوا کر آیاں ہوں۔میں تو انہیں کہتا تھا کہ میں ہیں آیات نکلوا کر لا دیتا ہوں مگر وہ یہی کہتے رہے کہ صرف ایک آیت ہی لے آؤ۔اب آپ مجھے کچھ آیات حیات مسیح پر مشتمل نکال کر دیجئے۔میں ابھی مرزا صاحب کے پاس لے جاؤں گا اور انہیں اپنے عقیدہ سے تو بہ کروا آؤں گا۔سننے والے لوگ تو مولوی صاحب کی اس کامیابی پر بڑے خوش ہوئے مگر مولوی محمد حسین صاحب اس پر غضبناک ہوکر بولے کہ تو مرزا کو ہرا کے نہیں آیا۔ہمیں ہرا کر آیا ہے اور ہمیں شرمندہ کیا۔میں مدت سے مرزا کو حدیث کی طرف لا رہا ہوں اور وہ قرآن شریف کی طرف مجھے کھینچتا ہے۔قرآن شریف میں اگر کوئی آیت مسیح کی زندگی کی ہوتی تو ہم کبھی کی پیش کر دیتے۔اسی لئے ہم حدیثوں پر زور دے رہے ہیں۔قرآن شریف سے ہم سرسبز نہیں ہو سکتے قرآن شریف تو مرزا کے دعوی کو سر سبز کرتا ہے۔“ پیر سراج الحق صاحب نعمانی مصنف ”تذکرۃ المہدی“ لکھتے ہیں کہ میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مولوی محمد حسین بٹالوی نے یہ باتیں کیں اس میں ذرہ بھی جھوٹ نہیں ہے خیر مولوی محمد حسین صاحب کی یہ باتیں سنکر ل بحوالہ حیات احمد جلد سوم صفحه ۱۱۰،۱۰۹