حیات طیبہ — Page 45
پھر فرماتے ہیں :- 45 انہیں دنوں میں میں نے ایک خوبصورت مرد دیکھا اور میں نے اُسے کہا کہ تم ایک عجیب خوبصورت ہو۔تب اس نے اشارہ سے میرے پر ظاہر کیا کہ میں تیرا بخت بیدار ہوں اور میرے اس سوال کے جواب میں کہ تو عجیب خوبصورت آدمی ہے۔اس نے جواب دیا کہ ہاں میں درشنی آدمی ہوں۔اے کثرت مکالمات و مخاطبات کی ابتداء آپ کے والد ماجد کی وفات کے بعد ہی آپ پر کثرت سے مکالمات و مخاطبات کا نزول شروع ہو گیا۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں :- ایک طرف اُن کا ( یعنی حضرت والد ماجد کا ) دنیا سے اُٹھایا جانا تھا اور ایک طرف بڑے زورشور سے سلسلہ مکالمات الہیہ کا مجھ سے شروع ہو گیا۔میں کچھ بیان نہیں کر سکتا کہ میرا کونسا عمل تھا جس کی وجہ سے یہ عنایت الہی شامل حال ہوئی۔صرف اپنے اندر یہ احساس کرتا ہوں کہ فطر کا میرے دل کو خدا تعالیٰ کی وفاداری کے ساتھ ایک کشش ہے جو کسی چیز کے روکنے سے رک نہیں سکتی۔سو سیہ اسی کی عنایت ہے۔۲؎ آپ کے بڑے بھائی مرزا غلام قادر صاحب کی جانشینی کا دور آپ کے والد ماجد کی وفات کے بعد خاندانی جائیداد کے منتظم آپ کے بڑے بھائی مرز اغلام قادر صاحب تھے۔اگر آپ چاہتے تو جائیداد کی تقسیم کا مطالبہ کر کے اپنا حصہ الگ کروا سکتے تھے۔مگر آپ نے اس طرف قطعا توجہ نہیں فرمائی۔بلکہ اپنا معمول یہ بنالیا کہ جو کچھ کھانے اور پینے کومل جاتا اسے اپنے بھائی کا احسان سمجھ کر قبول فرمالیتے اور کبھی حرف شکایت زبان پر نہ لاتے۔آٹھ نو ماہ کے متواتر روزے رکھنے کی وجہ سے قلیل خوراک پر گزارہ کرنے کے عادی تو آپ ہو ہی چکے تھے۔اس لئے ان ایام میں بھی آپ نے اس مجاہدہ سے پورا پورا فائدہ اٹھایا۔اکثر اوقات اپنا کھانا غرباء میں تقسیم فرما دیتے اور خود ایک پیسے کے چنے منگوا کر گزارہ کر لیتے اور جب یہ بھی نہ ہوتا تو فاقہ سے ہی وقت گزار دیتے۔آپ کے متعلق آپ کے بڑے بھائی کے تاثرات آپ کے والد ماجد کے تاثرات له وله ۱۱۳۱۹ لے ازالہ اوہام صفحہ ۲۱۳ ۲۱۴ ۲ کتاب البریه حاشیه صفحه ۱۶۳