حیات طیبہ

by Other Authors

Page 44 of 492

حیات طیبہ — Page 44

44 حضرت اقدس کے والد ماجد کی قبر چونکہ اب مسجد کے صحن میں آچکی ہے۔اس لئے اس کے اوپر چاروں طرف دیوار بنا کر اسے مسقف بنادیا گیا ہے تا بارش وغیرہ کے پانی سے محفوظ رہے۔آپ کے والد ماجد کی خوش قسمتی دیکھئے کہ وہ تو اس وقت کے حالات کے ماتحت زیادہ سے زیادہ اس امر کے خواہشمند تھے کہ اذان کی آواز میرے کان میں پڑتی رہے لیکن اللہ جل شانہ نے آپ کے بیٹے کے ذریعہ سلسلہ احمدیہ کی بنیادر کھ کر ذکر الہی کو اس قدر کثرت اور بلندی عطا کی کہ اس وقت سے لیکر اب تک اس میں متواتر ذکر الہی ہو رہا ہے اور انشاء اللہ قیامت تک ہوتا چلا جائے گا۔پنجوقتہ نمازوں اور نوافل کے علاوہ قادیان کی جامع مسجد بھی وہی ہے جس میں خطبات جمعہ اور جلسوں کے علاوہ قرآن کریم کا درس بھی با قاعدگی کے ساتھ ہوتارہتا ہے اور عجیب بات یہ ہے کہ عموما درس دینے والے حضرات اس قبر کے قریب ہی کھڑے ہوتے رہے ہیں۔حضرت خلیفہ اسیح الاوّل کے متعلق بھی پرانے لوگ بتاتے ہیں کہ یہیں کھڑے ہوا کرتے تھے اور حضرت حافظ روشن علی صاحب اور استاذی المکرم حضرت مولاناسید سرورشاہ صاحب کو تو میں نے خود ایک لمبا زمانہ وہاں درس دیتے دیکھا ہے۔حضرت خلیفہ امسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے تو پورا قرآن کریم اسی قبر کے پاس کھڑے ہو کر کئی سال تک درس دے کر ختم کیا اور دوسری بار درس قرآن شروع ہی تھا کہ چند سال بعد ۱۹۴۷ ء کا سانحہ پیش آگیا۔خاندانی عزت اور وجاہت کے قائم رہنے کے متعلق بعض رویاء الیس الله بکاف عبده ایسے عظیم الشان الہام کا ذکر اوپر گذر چکا ہے جس کا مطلب یہ تھا کہ اب آپ کی متکفل کلیۂ خدا تعالیٰ کی ذات ہوگی اس الہام کی تائید میں آپ کو بعض نظارے بھی دکھائے گئے۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں:۔ر بعض اوقات خواب یا کشف میں روحانی امور جسمانی شکل پر متشکل ہو کر مثل انسان نظر آجاتے ہیں۔مجھے یاد ہے کہ جب میرے والد صاحب غفر اللہ لہ جو ایک معزز رئیس اور اپنی نواح میں عزت کے ساتھ مشہور تھے انتقال کر گئے تو ان کے فوت ہونے کے بعد دوسرے یا تیسرے روز ایک عورت نہایت خوبصورت خواب میں میں نے دیکھی۔جس کا حلیہ ابھی تک میری آنکھوں کے سامنے ہے اور اس نے کہا کہ میرا نام رانی ہے اور مجھے اشارات سے کہا کہ میں اس گھر کی عزت اور وجاہت ہوں اور کہا کہ میں چلنے کوتھی مگر تیرے لئے رہ گئی۔1 ا ازالہ اوہام صفحه ۲۱۳