حیات طیبہ — Page 43
43 حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام نے جو اس مسجد کا پس منظر بیان کیا ہے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس مقام پر اسے درج کیا جائے۔حضور فرماتے ہیں: حضرت عزت جل شانہ کے سامنے خالی ہاتھ جانے کی حسرت روز بروز آخری عمر میں اُن ( والد صاحب) پر غلبہ کرتی گئی تھی۔بارہا افسوس سے کہا کرتے تھے کہ دنیا کے بیہودہ خرخشوں کے لئے میں نے اپنی عمر نا حق ضائع کر دی۔ایک مرتبہ حضرت والد صاحب نے یہ خواب بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ ایک بڑی شان کیساتھ میرے مکان کی طرف چلے آتے ہیں۔جیسا کہ ایک عظیم الشان بادشاہ آتا ہے تو میں اس وقت آپ کی طرف پیشوائی کے لئے دوڑا۔جب قریب پہنچا تو میں نے سوچا کہ کچھ نذر پیش کرنی چاہئے۔یہ کہہ کر جیب میں ہاتھ ڈالا۔جس میں صرف ایک روپیہ تھا اور جب غور سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ وہ کھوٹا ہے یہ دیکھ کر میں چشم پُر آب ہو گیا اور پھر آنکھ کھل گئی اور پھر آپ ہی تعبیر فرمانے لگے کہ دنیا داری کے ساتھ خدا اور رسول کی محبت ایک کھوٹے روپے کی طرح ہے اور فرمایا کرتے تھے کہ میری طرح میرے والد صاحب کا بھی آخری حصہ زندگی کا مصیبت اور غم اور خون میں ہی گذرا۔اور جہاں ہاتھ ڈالا آخر نا کامی تھی اور اپنے والد صاحب یعنی میرے دادا صاحب کا ایک شعر بھی سنایا کرتے تھے جس کا ایک مصرعہ راقم کو بھول گیا ہے اور دوسرا یہ ہے کہ ع "جب تدبیر کرتا ہوں تو پھر تقدیر ہنستی ہے“ اور یہ غم اور دردان کا پیرانہ سالی میں بہت بڑھ گیا تھا۔اسی خیال سے قریبا چھ ماہ پہلے حضرت والد صاحب نے اس قصبہ کے وسط میں ایک مسجد تعمیر کی جو اس جگہ کی جامع مسجد ہے اور وصیت کی کہ مسجد کے ایک گوشہ میں میری قبر ہوتا خدائے عزبه وجل کا نام میرے کان میں پڑتا ر ہے۔کیا عجب کہ یہی ذریعہ مغفرت ہو۔چنانچہ جس دن مسجد کی عمارت ہمہ وجوہ مکمل ہوگئی اور شاید فرش کی چند اینٹیں باقی تھیں کہ حضرت والد صاحب صرف چند روز بیمار رہ کر مرض پیچش سے فوت ہو گئے اور اسی مسجد کے اسی گوشہ میں جہاں انہوں نے کھڑے ہو کر نشان کیا تھا۔دفن کئے گئے۔اللهم ارحمہ وادخله الجنة۔آمین۔قریبا انی یا پچاسی برس کے قریب عمر پائی۔1 اب گو اس مسجد میں سلسلہ کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے مطابق کافی توسیع ہو چکی ہے لیکن اصل حصہ اب تک اسی صورت میں محفوظ ہے اور مختصر سا صحن جو پرانی قسم کی چھوٹی اینٹوں کا بنا ہوا تھا وہ بھی اسی طرح قائم ہے۔کتاب البریہ حاشیہ صفحہ ۱۵۷و۱۵۹