حیات طیبہ — Page 30
30 تمام وقت مطالعہ دینیات میں صرف ہوتا تھا۔عوام سے کم ملتے تھے۔اے والد صاحب کی طرف سے ملازمت چھوڑ کر قادیان پہنچنے کا ارشاد حضرت اقدس سیالکوٹ سے ملازمت چھوڑنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: آخر چونکہ میرا اجدار ہنا میرے والد صاحب پر بہت گراں تھا اس لئے اُن کے حکم سے جو عیین میری منشاء کے مطابق تھا میں نے استعفیٰ دے کر اپنے تئیں اس نوکری سے جو میری طبیعت کے مخالف تھی۔سبکدوش کر دیا اور پھر والد صاحب کی خدمت میں حاضر ہو گیا۔۔۔۔بقول صاحب مثنوی رومی وہ تمام ایام سخت کراہت اور درد کے ساتھ میں نے بسر کئے۔من بہر جمعیتے نالاں شدم جفت خوشحالاں و بدحالاں شدم ہر کسے از ظن خود شد یار من وز درون من بخست اسرار من سه آپ کی والدہ ماجدہ کا انتقال ۱۸۶۸ء جب آپ کے والد ماجد نے آپ کو استعفی دے کر واپس آنے کا ارشاد فرمایا تو آپ کی والدہ ماجدہ قادیان میں سخت بیمار تھیں۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بیماری کی حالت میں آپ کی والدہ ماجدہ نے بھی جنہیں آپ سے بہت محبت تھی آپ کے والد ماجد سے آپ کو واپس بلانے کا تقاضا کیا ہوگا اور والد خود بھی چار سال کا لمبا عرصہ اپنے خدا رسیدہ لخت جگر سے جدا رہنے پر اداس ہو گئے ہونگے۔چنانچہ جب آپ امرتسر پہنچے اور قادیان کے لئے یکہ کا انتظام کیا تو اس اثناء میں قادیان سے ایک اور آدمی بھی آپ کو لینے کے لئے امرتسر پہنچ گیا۔اس آدمی نے یکہ بان سے کہا کہ یکہ جلدی چلا ؤ۔آپ کی والدہ کی حالت بہت نازک تھی۔تھوڑی دیر کے بعد کہنے لگا۔بہت ہی نازک تھی جلدی کرو کہیں فوت نہ ہوگئی ہوں۔آپ کو یہ سنتے ہی یقین ہو گیا کہ والدہ ماجدہ کا انتقال ہو گیا ہے۔چنانچہ جب آپ قادیان پہنچے تو معلوم ہوا کہ آپ کا یہ گمان درست تھا۔آپ کی والدہ ماجدہ واقعی انتقال کر چکی تھیں۔فاناللہ وانا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ آپ کے لئے اگر چہ اپنی والدہ ماجدہ کی جدائی کا زخم شدید تھا مگر آپ نے پورے صبر اور سکون سے اس ه اخبار زمیندار مئی ۱۹۰۸ سے کتاب البریہ طبع ثانی صفحہ ۱۵۳ - ۱۵۵ حاشیہ سے سیرۃ المہدی حصہ اوّل طبع ثانی صفحه ۴۳، ۴۴