حیات طیبہ

by Other Authors

Page 470 of 492

حیات طیبہ — Page 470

470 ہو۔جسے ایشور کی ملاقات ہوئی ہو۔شیخ صاحب نے جھٹ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نام پیش کر دیا اور الہام يَأْتُونَ مِن كُل فج عميق کو آپ کی صداقت کے طور پر ذکر کیا اس مرحلہ پر ساتھی ہندوؤں نے پنڈت جی کو بلا لیا اور وہ دوسری طرف چلے گئے۔اس سادہ سی گفتگو سے جو شیخ عبد القادر صاحب نے اپنے ابتدائی ایام میں ایک بڑے سناتنی مناظر سے کی یہ امر ظاہر وباہر ہے کہ شیخ صاحب اپنے عقیدہ میں کتنے سنجیدہ اور اپنے نصب العین کو کس طرح سامنے رکھنے والے نوجوان تھے۔اب شیخ صاحب مدرسہ احمدیہ کے ہونہار طلبہ میں سے تھے۔بڑے متاذب اور محنتی شاگرد تھے۔۱۹۳۱ء میں انہوں نے مولوی فاضل کا امتحان پنجاب یونیورسٹی سے پاس کیا اور کچھ عرصہ تک تبلیغی ٹریننگ حاصل کرنے کے بعد ۱۹۳۴ء میں تبلیغی کام شروع کر دیا۔چند ماہ تک حضرت مولوی راجیکی صاحب کی زیر نگرانی عملی کام کیا اور پھر آج تک مسلسل و پیہم دینی خدمات بجا لا رہے ہیں۔ایک عرصہ تک کراچی میں بھی انچارج مشن رہے ہیں۔لائل پور، شیخو پورہ ، سرگودھا اور لاہور میں تبلیغی کام کرتے رہے ہیں اور ان دنوں لاہور میں بطور مرکزی مربی فریضہ تبلیغ ادا کر رہے ہیں۔شیخ صاحب کی طبیعت شروع سے ہی متین اور پر وقار ہے۔انہوں نے مجھ سے خود ذکر کیا ہے کہ اوائل میں جب میری ان سے واقفیت ہوئی تھی تو ایک دن مسجد کو جاتے ہوئے میں نے ان سے کہا تھا کہ حدیث نبوی میں آیا ہے کہ جس سے محبت ہوا سے بتا دینا چاہئے۔اس حدیث کے مطابق میں آپ کو بتا تا ہوں کہ مجھے آپ سے محبت ہے۔گئی۔چنانچہ جب شیخ صاحب نے اس پرانے واقعہ کا ذکر کیا تو میرے سامنے ان کی اس زمانہ کی ساری زندگی پھر شیخ صاحب کی تقریر مؤثر ہوتی ہے۔مگر قدرے طبعی حجاب کے باعث حتی الامکان تقریر کرنے سے پہلوتہی کرتے ہیں۔مناظرہ میں خوب جوش اور پرتاثیر آواز سے گفتگو کرتے ہیں۔مخالف پر ان کی گرفت بڑی زبردست ہوتی ہے۔تحریر کا بھی انہیں شوق ہے۔مگر زیادہ تر تاریخی امور کی طرف رجحان ہے۔تذکرہ کی ابتدائی ترتیب میں ان کا خاصہ حصہ ہے۔ایک عرصہ تک نظارت دعوت و تبلیغ میں نشر واشاعت کے انچارج بھی رہے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے الْأَرْوَاحُ جُنُودُ تُجنَّدَةٌ (الحدیث) کہ انسانوں کی روحوں میں باہم مناسبت سے محبت پیدا ہوتی ہے۔جن جن ارواح میں تطابق ہوتا ہے ان میں خود بخودکشش اور محبت پیدا ہو جاتی ہے۔شیخ صاحب موصوف سے ہمارے استاد حضرت مولانا محمد اسمعیل صاحب حلالپوری اور