حیات طیبہ

by Other Authors

Page 469 of 492

حیات طیبہ — Page 469

469 انہوں نے ان کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا اور مرکز اشاعت اسلام میں دھونی رما کر بیٹھ گئے۔دوسرے تیسرے روز سود اگر مل صاحب نے حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی خدمت میں درخواست کی کہ میری بیعت قبول کر کے مجھے سلسلہ احمدیہ میں داخل فرمایا جائے حضور ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے فرمایا جلدی کی کیا ضرورت ہے۔دو تین ماہ اور ٹھہر جائیں مگر انہوں نے اصرار سے عرض کیا۔کہ حضور مجھے اسلام کی صداقت پر یقین ہو چکا ہے اس پر حضور نے استاذنا المحترم حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب رضی اللہ عنہ کوفرمایا کہ آپ انہیں آج کلمہ طیبہ پڑھا دیں۔کل بیعت لے لیں گے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔اب لالہ سوداگرمل شیخ عبد القادر ہو گئے۔الحمد للہ ثم الحمد للہ۔ہندووانہ تمدن کا اثر اتنا گہرا تھا کہ اسلام لانے کے باوجود شیخ صاحب موصوف شروع شروع میں مسلمان کے ہاتھ کا پکا ہوا کھانا بمشکل کھاتے تھے۔مگر چند روز کے بعد تو وہ ایسے گھل مل گئے کہ یہ پہچانا مشکل ہو گیا کہ یہ نوجوان ہندوؤں میں سے مسلمان ہوا ہے یا پیدائشی مسلمان ہے۔در حقیقت یہ پوری تبدیلی اس خلوص کا لازمی نتیجہ تھی جو سابق سوداگرمل صاحب کے دل میں مذہب کے لئے موجود تھا۔اسلام نے اس خلوص پر سونے پر سہاگے کا کا م کیا۔ابھی شیخ عبدالقادر صاحب کی روحانی پیدائش پر صرف چند ماہ ہی گذرے تھے کہ ایک مشہور سناتن دھرمی پنڈت راج نرائن صاحب ارمان قادیان میں آگئے۔شیخ عبدالقادر مدرسہ احمد یہ میں داخل ہو چکے تھے۔قادیان کے چند ہندو پنڈت راج نرائن صاحب کو مدرسہ احمدیہ دکھانے کے لئے ادھر لائے۔کیونکہ مدرسہ احمدیہ سے ہی ایسے نوجوان مبلغین پیدا ہورہے تھے جو آریہ سماج اور عیسائیت کے مقابلہ میں ہر جگہ سینہ سپر ہوتے تھے۔اتفاق کی بات ہے کہ شیخ عبد القادر نومسلم محن میں کھڑے تھے اور قادیان کے ہندوؤں کو ان کا اسلام میں داخل ہو نا معلوم تھا۔ایک ہندو نے شیخ صاحب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پنڈت صاحب سے کہا کہ یہ نوجوان بھی ہندو تھا اب مسلمان ہو گیا ہے۔پنڈت صاحب سیدھے شیخ عبد القادر کے پاس پہنچ گئے اور پوچھا کہ اسلام میں ایسی کونسی خوبی ہے جس سے ہندو دھرم محروم ہے۔ذراسی دیر سوچنے کے بعد نوجوان عبد القادر نے پنڈت صاحب سے کہا کہ آپ بتلائیں کہ مذہب کا مقصد کیا ہے؟ پنڈت جی نے کہا کہ پر میشور سے ملاقات، عبدالقادر گویا ہوئے۔کہ آپ فرمائیں کہ آپ کو پرمیشور کی ملاقات حاصل ہو چکی ہے؟ پنڈت جی نے کہا کہ نہیں۔اس پر شیخ صاحب بولے کہ کیا آپ کے علم میں کسی اور زندہ ہندو کی ایشور سے ملاقات ہو چکی ہے؟ اس پر بھی پنڈت جی نے نفی میں جواب دیا، مگر ساتھ ہی کہا کہ البتہ رام چندر جی اور کرشن جی مہاراج کے متعلق کہہ سکتا ہوں۔شیخ عبدالقادر صاحب نے کہا کہ میں تو کوئی اس زمانہ کا ہندو دیکھنا چاہتا ہوں۔اس پر پنڈت جی نے نوجوان نو مسلم سے پوچھا کہ کیا تم کسی ایسے مسلمان کا پتہ بتا سکتے