حیات طیبہ — Page 468
468 کہ اگر عز یز سود اگرمل قادیان جانے کے لئے آمادہ ہوئے تو ساتھ جاؤں گا اس لئے میں آپ کے ساتھ چلتا ہوں۔چنانچہ تھوڑی دیر کے بعد دونوں قادیان جانے کے عزم سے چل پڑے۔سانگلہ ہل سے روانہ ہوکر بٹالہ کے بجائے چھینہ ریلوے سٹیشن پر جو بٹالہ سے اگلا سٹیشن ہے اس لئے اُترے کہ مبادا سوداگرمل کے رشتہ دار پیچھے سے تعاقب کر کے بٹالہ اور قادیان کے درمیانی پیدل راستہ میں پکڑ نہ لیں۔چھینہ سے یہ قافلہ قادیان پہنچ گیا۔سوداگرمل نے قادیان پہنچتے ہی مہمان خانہ میں کہہ دیا کہ میں ہندو ہوں۔اس لئے کسی مسلمان کے ہاتھ کا کھانا نہیں کھاؤں گا۔ہمارے محترم استاد حضرت میر محمد الحق صاحب مرحوم ان دنوں مہمان خانہ کے انچارج تھے اور انہیں مہمان نوازی کا خاص ملکہ قدرت کی طرف سے ودیعت ہوا تھا۔انہوں نے سوداگرمل صاحب کے لئے ہندوؤں کے ہاں سے کھانا منگوانے کا انتظام کر دیا اور ایک ہفتہ تک برابر یہ انتظام جاری رکھا۔اس دوران میں میاں محمد مراد صاحب نے سوداگرمل صاحب کی ان احمدی نومسلم بزرگوں سے ملاقاتیں کروائیں جو ہندوؤں اور سکھوں میں سے اسلام میں داخل ہوئے تھے۔حضرت چوہدری بھائی عبدالرحیم صاحب ، حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی، حضرت ماسٹر سردار عبدالرحمن صاحب بی اے، حضرت شیخ غلام احمد صاحب واعظ اور حضرت شیخ محمد یوسف صاحب ایڈیٹر اخبار نور قادیان کی ملاقاتوں کا سوداگرمل صاحب کے دل پر خاص اثر تھا۔کیونکہ یہ لوگ سکھوں اور ہندوؤں میں سے آئے تھے اور اسلام کو قبول کر کے انہوں نے خاص نورانیت اور روحانی زندگی حاصل کی تھی۔میاں محمد مراد صاحب نے اس کے ساتھ ساتھ بعض ایسے پرانے مسلمان بزرگوں سے بھی سوداگر مل صاحب کو ملا یا جو سلسلہ احمدیہ کی خاص برکات سے بہرہ ور تھے۔حضرت مولوی راجیکی صاحب، استاذی المحترم حضرت حافظ روشن علی صاحب ، حضرت خلیفہ رشید الدین صاحب ، حضرت مولوی ذوالفقار علی خاں صاحب اور حضرت مولوی عبد المغنی صاحب کی پر خلوص گفتگو اور ان کے پاکیزہ نمونہ نے لالہ سوداگر مل صاحب کو دل میں شیخ عبد القادر بننے پر مجبور کر دیا۔قادیان میں آئے ہوئے سوداگرمل صاحب کو ایک ہفتہ ہی ہوا تھا کہ ان کے رشتہ داروں کا ایک وفد جو سات افراد پر مشتمل تھا۔انہیں واپس لے جانے کے لئے قادیان پہنچ گیا۔وہ لوگ حضرت چوہدری نصر اللہ خان سے جو ان دنوں وہاں آنریری ناظر اعلیٰ کے طور پر کام کر رہے تھے ملے۔اور اصرار کیا کہ سوداگرمل کو ہمارے ساتھ واپس بھیجا جائے۔حضرت چوہدری صاحب نے فرمایا کہ اسلام کی تعلیم ہے لا اکراہ فی الدین۔کہ دین کے بارے میں کوئی جبر نہیں ہو سکتا اور نہ یہ جائز ہے۔اگر عزیز سود اگر مل آپ لوگوں کے ساتھ جانا چاہتے ہیں تو بے شک لے جائیں۔رشتہ داروں نے سوداگرمل سے گاؤں جانے کے لئے کہا۔مگر وہ دل میں عبد القادر بن چکے تھے اس لئے