حیات طیبہ

by Other Authors

Page 467 of 492

حیات طیبہ — Page 467

467 اور انہوں نے اس نوجوان میں رُشد و سعادت کے آثار دیکھ کر اسے تبلیغ اسلام شروع کر دی۔اسلام کی معقول تعلیمات کا دل پر اثر ہونا شروع ہو گیا۔جناب میاں محمد مراد صاحب ۱۹۲۴ء کے سالانہ جلسہ پر قادیان جاتے ہوئے تبلیغ کی غرض سے اپنے ہمراہ ایک مقامی باشندہ اللہ جوایا مصلی کو لے گئے تھے۔جو قادیان کی زیارت اور وہاں کے ماحول سے نہایت نیک اثر لے کر آیا تھا۔مگر اس نے واپسی پر لوگوں کے دریافت کرنے پر یہ کہنا شروع کر دیا کہ قادیان میں تو دکانداری اور ٹھگ بازی ہے۔سوداگرمل کے لئے یہ صورت حال ایک معمہ سے کم نہ تھی۔وہ دیکھتے تھے کہ قادیان کا مقامی نمائندہ میاں محمد مراد نہایت عمدہ اور پاکیزہ زندگی بسر کر رہا ہے اور لوگ اس کے اخلاق کی تعریف کرتے رہتے ہیں مگر اللہ جوایا مصلی کہتا ہے کہ قادیان میں دکانداری اور ٹھگ بازی ہے۔اس الجھن کو حل کرنے کے لیے سوداگرمل نے اللہ جوا یا مصلی سے تنہائی میں دریافت حال کے لیے ملنا ضروری سمجھا۔انہوں نے اللہ جوایا کو اپنے بھائیوں کی دکان میں رات کو کیلا بلا کر کپاس کے ڈھیر پر بیٹھ کر دریافت کیا کہ تم کہتے ہو کہ قادیان میں دکانداری اور ٹھگ بازی ہے مگر یہ میاں محمد مراد تو اس بات سے کوسوں دُور ہیں اور نیکی کی زندگی بسر کر رہے ہیں یہ کیا بات ہے؟ اللہ جوا یا نے بے ساختہ کہا کہ میرا بیان غلط ہے۔میں گاؤں کا کمین ہوں۔گاؤں کے زمیندار قادیان والوں کے خلاف ہیں اس لئے میں لوگوں کے سامنے سچی بات نہیں کہہ سکتا۔میں عام لوگوں کو تو ان کی مرضی کے مطابق بات کہتا ہوں تا وہ خوش ہوں ور نہ حقیقت یہ ہے کہ اگر اسلام دنیا میں کہیں ہے تو وہ صرف قادیان میں ہے۔میں یہ سچی بات آپ کو بتا تا ہوں۔اگر گاؤں کے دوسرے لوگوں سے یہ بات کہوں تو گاؤں کے زمیندار جوتے مار مار کر مجھے گاؤں سے نکال دیں گے اس لئے ان کے سامنے تو میں بدستور وہی بات کہوں گا۔مگر سچی بات یہ ہے جو میں نے اب آپ کو بتائی ہے۔اللہ جوا یا کی اس گفتگو سے سوداگر مل کے دل کی نہ صرف اُلجھن ہی دُور ہوگئی بلکہ وہ اس عزم کیساتھ وہاں سے اُٹھے کہ میں خود قادیان جاؤں گا اور اپنی آنکھوں سے حالات کا مشاہدہ کروں گا۔اگر چہ سوداگر مل عام مسلمانوں کی پستی علم سے محرومی اخلاقی گراوٹ اور اقتصادی بدحالی کو دیکھ کر اسلام سے متنفر تھے۔مگر میاں محمد مراد صاحب کی دل میں گھب جانے والی سادہ باتیں اور دل کو موہ لینے والا نیک نمونہ انہیں مجبور کرتا تھا کہ وہ قادیان جا کر حالات کو خود دیکھیں۔اس وقت یہ عجیب کشمکش میں مبتلا تھے۔زبان سے کہتے تھے کہ اگر سارا جہان بھی مسلمان ہو جائے تب بھی میں مسلمان نہ ہونگا۔مگر دل کشاں کشاں اس کو چہ کی طرف جارہا تھا۔اللہ جوایا سے مذکورہ بالا گفتگو کے بعد دوسری صبح ہی سوداگرمل قادیان جانے کے لئے تیار تھے۔انہوں نے میاں محمد مراد صاحب سے کہا کہ میں قادیان جارہا ہوں۔میاں محمد مراد صاحب نے بتایا کہ میں نے تمہاری گذشتہ شب کی اللہ جوایا سے گفتگورات کے اندھرے میں اپنے کانوں سنی ہے اور میں نے دل میں اسی وقت ارادہ کر لیا تھا