حیات طیبہ

by Other Authors

Page 455 of 492

حیات طیبہ — Page 455

455 تھے۔وہی آپ استعمال فرمایا کرتے تھے۔مگر علاوہ ان کے کبھی کبھی آپ خود بھی بنوالیا کرتے تھے۔عمامہ تو اکثر خود ہی خرید کر باندھتے تھے۔جس طرح کپڑے بنتے تھے اور استعمال ہوتے تھے۔اسی طرح ساتھ ساتھ خرچ بھی ہوتے جاتے تھے یعنی ہر وقت تبرک مانگنے والے طلب کرتے رہتے تھے۔بعض دفعہ تو یہ نوبت پہنچ جاتی کہ آپ ایک کپڑ ابطور تبرک کے عطا فرماتے تو دوسرا بنوا کر اس وقت پہننا پڑتا اور بعض سمجھدار اس طرح بھی کرتے تھے کہ مثلاً ایک کپڑایا بھیج دیا اور ساتھ عرض کر دیا کہ حضور ایک اپنا اُترا ہوا تبرک مرحمت فرما دیں۔خیر یہ تو جملہ معترضہ تھا۔اب آپ کے لباس کی ساخت سنئیے۔عموماً یہ کپڑے آپ زیب تن فرمایا کرتے تھے گر تہ یا قمیض، پائجامہ، صدری، کوٹ ، عمامہ۔اس کے علاوہ رُومال بھی ضرور رکھتے تھے۔اور جاڑوں میں مجرا ہیں۔آپ کے سب کپڑوں میں خصوصیت یہ تھی کہ وہ بہت بہت کھلے ہوتے تھے اور اگر چہ شیخ صاحب موصوف کے آوردہ کوٹ انگریزی طرز کے ہوتے مگر وہ بھی بہت کشادہ اور لمبے یعنی گھٹنوں سے نیچے ہوتے تھے اور چوغہ بھی جو آپ پہنتے تھے تو وہ بھی ایسے لمبے کہ بعض تو اُن میں سے ٹخنے تک پہنچتے تھے۔اسی طرح گرتے اور صدر یاں بھی کشادہ ہوتی تھیں۔بنیان آپ کبھی نہ پہنتے تھے بلکہ اس کی تنگی سے گھبراتے تھے۔گرم قمیض جو پہنتے تھے۔ان کا اکثر او پر کا بٹن کھلا رکھتے تھے۔اسی طرح صدری اور کوٹ کا۔اور قمیص کے کفوں میں اگر بٹن ہوں تو وہ بھی ہمیشہ کھلے رہتے تھے۔آپ کا طرز عمل ” ما انا مِنَ الْمُتَكَلفِينَ “ کے ماتحت تھا کہ کسی مصنوعی جکڑ بندی میں جو شرعا غیر ضروری ہے۔پابند رہنا آپ کے مزاج کے خلاف تھا اور نہ آپ کو کبھی پروا تھی کہ لباس عمدہ ہے یا برش کیا ہوا ہے یا بٹن سب درست لگے ہوئے ہیں یا نہیں۔صرف لباس کی اصل غرض مطلوب تھی۔بارہ دیکھا گیا کہ بٹن اپنا کاج چھوڑ کر دوسرے ہی میں لگے ہوئے ہوتے تھے۔بلکہ صدری کے بٹن کوٹ کے کاج میں لگائے ہوئے دیکھے گئے۔آپ کی توجہ ہمہ تن اپنے مشن کی طرف تھی اور اصلاح امت میں اتنے محو تھے کہ اصلاح لباس کی طرف توجہ نہ تھی۔آپ کا لباس آخر عمر میں چند سال سے بالکل گرم وضع کا ہی رہتا تھا۔یعنی کوٹ اور صدری اور پاجامہ گرمیوں میں بھی گرم رکھتے تھے اور یہ علالت طبع کے باعث تھا۔سردی آپ کو موافق نہ تھی اس لئے اکثر گرم کپڑے رکھا کرتے تھے۔البتہ گرمیوں میں نیچے گرتی ململ کا رہتا تھا بجائے گرم گرتے کے۔پاجامہ آپ کا معروف شرعی وضع کا ہوتا تھا ( پہلے غرارہ یعنی ڈھیلا مردانہ پاجامہ بھی پہنا کرتے تھے مگر آخر عمر میں ترک کر دیا تھا مگر گھر میں گرمیوں میں کبھی کبھی دن کو اور عاد خارات کے وقت نہ بند باندھ کر خواب فرمایا کرتے تھے۔صدری گھر میں اکثر پہنے رہتے مگر کوٹ عموما باہر جاتے وقت ہی پہنتے اور سردی کی زیادتی کے دنوں میں اوپر تلے دو دوکوٹ بھی پہنا کرتے بلکہ بعض اوقات پوستین بھی۔